جمعرات, جولائی 23, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

روس کے خلاف جنگ کے دوران فوجی امداد تک رسائی کیلئے یوکرین کا امریکا سےمعدنی ذخائر کا معاہدہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-05-02
in عالمی خبریں
A A
روس کی کیف میں رہائشی عمارت پر شیلنگ ،2افراد ہلاک
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا:آئی آر جی سی

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اہلیہ اوشا وینس کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش

واشنگٹن///
امریکا نے کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد یوکرین کے ساتھ توانائی اور معدنی وسائل کے مشترکہ استعمال کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، یوکرین کے لیے امریکی فوجی امداد تک رسائی کے لیے یہ معاہدہ کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے موجودہ نایاب ذخائر سے متعلق یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ زوروں سے جاری ہے۔
معاہدے سے متعلق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ امریکا یوکرین ری کنسٹرکشن انویسٹمنٹ فنڈ میں فروری 2022 میں روس کے حملے کے بعد سے یوکرین کو دی جانے والی ’اہم مالی اور(جنگی) ساز و سامان‘ کی مدد کو تسلیم کیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے معاہدے کے حوالے سے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق یوکرین میں دیرپا امن اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہیں۔
واضح رہے کہ یوکرین میں گریفائٹ، ٹائٹینیم اور لیتھیم جیسی اہم معدنیات کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ یہ معدنیات قابل تجدید توانائی، فوجی ساز و سامان کی تیاری اور صنعتوں کے بنیادی ڈھانچے میں استعمال کی جاتی ہیں جس کے باعث ان کی بہت زیادہ مانگ ہے۔
اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے تعمیر نو سرمایہ کاری فنڈ کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے جس کا مقصد روس کے ساتھ جنگ سے یوکرین کی معاشی بحالی کو فروغ دینا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل یہ معاہدہ اس وقت تاخیر کا شکار ہوا تھا جب امریکی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یوکرین آخری لمحات میں اس معاہدے میں تبدیلیاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس معاہدے میں استعال کیا جانے والا لب و لہجہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے معمول سے کہیں زیادہ یوکرین کے ساتھ یکجہتی ظاہرکر رہا ہے۔
معدنیاتی ذخائر کے معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اس معاہدے سے یوکرین میں ترقی اثاثوں کو کھولنے میں مدد ملے گی۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق یہ معاہدہ روس کو پیغام ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے امن عمل کیلیے پرعزم ہے جس کا محور آزاد، خودمختار اور خوشحال یوکرین ہو۔
اس معادہ میں روس کی جانب سے یوکرین پر پوری شدت سے حملے کا حوالہ دیا گیا ہے اور مزید کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی ریاست یا شخص کو، جس نے روسی جنگی ساز و سامان کی فراہمی یا مالی اعانت کی تھی، یوکرین کی تعمیر نو سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
یوکرین کی نائب وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو بدھ کے روز اس اہم معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے واشنگٹن گئی تھیں۔
انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’نیا فنڈ ہمارے ملک میں عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔
معاہدے کی شقوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس معاہدے میں معدنیات، تیل اور گیس کے منصوبے شامل ہیں جبکہ معدنیاتی وسائل بدستور یوکرین کی ملکیت رہیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ شراکت داری 50:50 کی بنیاد پر برابر ہوگی ، اور کیئو کیف میں قانون سازوں کی طرف سے اس کی توثیق ضروری ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت امریکہ یوکرین کو فضائی دفاعی نظام سمیت دیگر نئی امداد فراہم کرے گا
صدر ٹرمپ نے کیئو کو مستقبل میں سلامتی کی کسی بھی ضمانت کی پیش کش کے لیے اس معاہدے کو ایک شرط کے طور پر بار باردہرایا ہے۔
معاہدے کے مسودے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین مستقبل میں امریکی سکیورٹی امداد کے بدلے میں واشنگٹن کو اپنے کچھ قدرتی وسائل تک رسائی دے گا تاہم یہ ٹرمپ کی ان امیدوں سے کم دکھائی دے رہا ہے جس میں وہ 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے دی جانے والی تمام امریکی فوجی امداد کی ادائیگیوں کے لیے پر امید تھے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے واشنگٹن سے کچھ رعایتیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مذاکرات سے واقف ایک امریکی ذرائع نے یوکرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ شرائط کو دوبارہ منوانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کو بظاہر اختتام ہفتہ پر حتمی شکل دے دی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں فنڈ کی گورننس، شفافیت کے معاملات اور دیگر نکات شامل ہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

دہلی حکومت پانی اور سیوریج سسٹم کے انتظام میں مکمل طور پر ناکام ہے : آتشی

Next Post

اسرائیل کے جنگلات میں بدترین آتشزدگی۔ مرکزی شاہراہ بند

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

اسرائیل ہماری دفاعی صلاحیتوں سے متعلق ایک خیالی خطرہ گھڑ رہا ہے : ایران
عالمی خبریں

ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا:آئی آر جی سی

2026-07-21
ایران ایک ہی ہفتے تک رویہ بہتر رکھ کر معاہدے کی پاسداری کر سکا، جی ڈی وینس
عالمی خبریں

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اہلیہ اوشا وینس کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش

2026-07-21
جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں زلزلے کے ہلکے جھٹکے ، کوئی نقصان نہیں
عالمی خبریں

مغربی ایران میں 5.5 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

2026-07-21
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم، خام تیل 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز
عالمی خبریں

تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

2026-07-21
سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے، ایران کا دعویٰ
عالمی خبریں

حالیہ امریکی حملوں میں 30 شہری شہید ہوئے: ایران

2026-07-16
امریکا اور برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں نافذ
عالمی خبریں

ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ مکمل کر لیا: امریکی فوج

2026-07-16
غزہ؛ اسرائیل کی بمباری میں تاریخی مسجد ’العمری الکبیر‘ شہید
عالمی خبریں

جنوبی لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں، ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید

2026-07-16
میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ مذاکرات میں رکاوٹ‘
عالمی خبریں

امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھادیا

2026-07-14
Next Post

اسرائیل کے جنگلات میں بدترین آتشزدگی۔ مرکزی شاہراہ بند

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.