سرینگر/
تقریبا ًایک ہفتے تک بارش کے بعد پیر کے روز کشمیر میں تیز دھوپ نے لوگوں کا استقبال کیا۔
محکمہ موسمیات سرینگر نے کہا ہے کہ موسم عام طور پر۲۶ مارچ تک خشک رہے گا اور ۱۹مارچ کی رات کو کہیں کہیں اونچے علاقوں میں ہلکی برفباری کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق۲۷؍ اور ۲۸ مارچ کے دوران بالائی علاقوں میں ہلکی بارش اور برفباری کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے معمول کے زرعی کاموں کو دوبارہ شروع کریں اور مسافروں اور سیاحوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے ایڈمن ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں۔
حالیہ شدید برفباری کے دوران اس نے وادی کشمیر کے بالائی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ برفانی تودے گرنے والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔
پیر کے روز روشن سورج نمودار ہوا جب سیاح قدرت کی عظمت کا تجربہ کرنے کے لئے مشہور ڈل جھیل میں شکاراس میں سواری کے لئے نکل رہے تھے۔
کشمیر ڈویڑن میں دن کے درجہ حرارت میں ایک سے۸ ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی واقع ہوئی، کپواڑہ میں ۱ء۱۲ ڈگری سینٹی گریڈ اور سرینگر میں۲ء۱۲ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اتوار کو دیگر اسٹیشنوں میں سب سے زیادہ رہا۔
کشمیر ڈویڑن میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب ریکارڈ کیے گئے کم سے کم درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا گیا اور کئی مقامات پر اس میں ۱ سے۲ ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی دیکھی گئی جبکہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سکی ریزورٹ گلمرگ میں سب سے کم درجہ حرارت منفی۰ء۵ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ کے سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی ۳ء۰ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت۸ء۳ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
اس دوران وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر، جموں قومی شاہراہ مسافر بر دار گاڑیوں کی دو طرفہ جبکہ مال بر دار گاڑیوں کی یک طرفہ نقل و حمل کے لئے کھلی ہے ۔
حکام کے مطابق آج یعنی پیر کو مال بر دار گاڑیوں کو سرینگر سے جموں جانے کی اجازت ہے ۔
ادھر وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر، لیہہ شاہراہ۲۰فروری جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے راجوری اور پونچھ اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل پر گذشتہ زائد از دو ماہ سے ٹریفک مسلسل بند ہے ۔
ٹریفک حکام نے بتایا کہ سرینگر‘جموں قومی شاہراہ پر مسافر بر دار گاڑیوں کی دوطرفہ آمد و رفت جاری ہے تاہم آج یعنی پیر کو بڑی گاڑیوں (مال بر دار گاڑیوں) کو سری نگر سے جموں جانے کی اجازت ہے ۔
انہوں نے مسافروں سے لین ڈسلپن پر عمل کرنے اور اوور ٹیکنگ کرنے سے احتراز کرنے کی اپیل کی ہے ۔
حکام نے مسافروں سے کہا ہے کہ وہ قومی شاہراہ پر دن کے دوران ہی سفر اختیار کریں نیز چٹانیں کھسک آنے کے خدشات کے پیش نظر رام بن اور بانہال کے درمیان غیر ضروری قیام کرنے سے پرہیز کریں۔
وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر، لیہہ شاہراہ بھی۲۰فروری سے مسلسل بند ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ پر گذشتہ۲ماہ سے ٹریفک کی نقل و حمل معطل ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ سنتھن روڈ اور چمبا، بھدرواہ روڈ بھی مسلسل بند ہیں۔
دریں اثنا وادی میں ایک ہفتے کے برف و باراں کے بعد موسم میں بتدریج بہتری واقع ہو رہی ہے ۔










