سرینگر///
جموں کشمیر حکومت نے انسانی ٹریفکنگ اور جنسی استحصال کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے تمام سٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز)، سب ڈویژنل پولیس آفیسرز (ایس ڈی پی اوز) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی وائی ایس پیز) (ہیڈ کوارٹرز) کو اپنے اپنے دائرہ اختیار کے اندر خصوصی پولیس افسران کے طور پر آئی ٹی (پی) ایکٹ ۱۹۵۶کو نافذ کرنے کے لئے مقرر کیا ہے ۔
جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق تقرریاں آئی ٹی (روک تھام) ایکٹ۱۹۵۶کے سیکشن۱۳کے ذیلی سیکشن(۱)کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں اور اس معاملے میں تمام سابقہ نوٹیفیکیشنوں کو منسوخ کیا گیا ہے ۔
اس اقدام کا مقصد تجارتی مقاصد کے لیے انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے خلاف نفاذ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ آئی ٹی (روک تھام) ایکٹ، ۱۹۵۶ایک ہندوستانی قانون ہے جو انسانی اسمگلنگ اور افراد کے منظم تجارتی استحصال کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔









