نئی دہلی//سپریم کورٹ نے جمعرات کو مرکزی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات ایل مروگن کے خلاف دائر ہتک عزت کے 2020 کے ایک مقدمے میں معافی مانگنے کے بعد مقدمہ بند کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس بی آر گاوائی اور کے وی وشواناتھن کی بنچ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) لیڈر مسٹر مروگن کی معافی ریکارڈ پر لینے کے بعد انہیں راحت دینے کا حکم دیا۔ بنچ کے سامنے مسٹر مروگن کے وکیل نے کہا کہ ان کا کسی بھی طرح سے مدعا علیہان (چنئی میں مقیم مراسولی ٹرسٹ) کی ساکھ کو ٹھیس یا نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
مراسولی ٹرسٹ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سدھارتھ لوتھرا اور این آر ایلنگو نے بھی عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ وہ اس کیس کی مزید کارروائی نہیں کریں گے ۔
اس طرح عدالت نے بی جے پی لیڈر کی ہتک عزت کی کارروائی کو منسوخ کرنے کی اپیل پر مزید کارروائی روکنے کا حکم دیا۔ بنچ نے ٹرسٹ کی طرف سے مرکزی وزیر مملکت کے تئیں دکھائی گئی سخاوت کی تعریف بھی ریکارڈ میں درج کی۔
یہ مقدمہ چنئی میں ٹرسٹ کی ملکیت والی زمین پر کیے گئے مسٹر مروگن کے تبصروں پر درج کیا گیا تھا۔ مسٹر موروگن نے دسمبر 2020 میں ایک پریس کانفرنس میں مبینہ طور پر تضحیک آمیز بیان دیا تھا، جس کے بعد مراسولی ٹرسٹ نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے یہ تبصرہ بی جے پی کے تمل ناڈو ریاستی سربراہ کی حیثیت سے کیا تھا۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور دراوڑ منیترا کزگم کے صدر ایم کے اسٹالن مراسولی ٹرسٹ کے منیجنگ ٹرسٹی رہے ہیں۔ عدالت نے چنئی کی ایک خصوصی عدالت میں زیر التواء کارروائی پر ستمبر 2023 میں روک لگا دی تھی۔
مسٹر مروگن نے مدراس ہائی کورٹ کے 5 ستمبر 2023 کے حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں ان کے خلاف کارروائی کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے مسٹر مروگن کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست گزار کو آزادی ہے کہ وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے تمام مسائل اٹھائے ، جن پر میرٹ کے مطابق غور کیا جائے گا۔









