سرینگر//
جموں کشمیر انتظامیہ نے جمعرات کو سونہ واری سے نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے ‘ہلال اکبر لون کے خلاف حلف برداری کی تقریب کے دوران قومی ترانے کیلئے کھڑے نہ ہونے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
عمر عبداللہ نے بدھ کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا۔
شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں حلف برداری کی تقریب کے دوران بہت سے شرکا قومی ترانے کے لیے کھڑے نہیں ہوئے اور لون ان میں سے ایک تھے۔
معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے لون نے کہا کہ ان کی طبی حالت نے انہیں بیٹھے رہنے پر مجبور کیا۔لون نے کہا’’جب میں اندر گیا تو میں نے میڈیا سے بات کی، اس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا، اور میں کچھ سیکنڈ کے لیے کھڑا رہا، پھر کمر درد کی وجہ سے بیٹھنے پر مجبور ہو گیا‘‘۔
ایم ایل اے نے زور دے کر کہا کہ یہ کوئی جرم نہیں ہے۔
لون نے کہا کہ سپریم کورٹ کا بھی یہ تحفظات ہے کہ قومی ترانے کے دوران کھڑے نہ ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے نے کہا’’میں قانون ساز اسمبلی کا رکن ہوں، میں نے ہندوستانی آئین پر حلف لیا ہے، آپ مجھ پر شک کیوں کر رہے ہیں۔بار بار مجھ پر شک کرنا بند کرو‘‘۔
لون نے کہا کہ جب کوئی قومی ترانے میں خلل ڈالتا ہے یا اس میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ جرم کرتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام تقریب کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ کا جائزہ لیں گے تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ قومی ترانے کے دوران کون بیٹھا رہا۔
اس دوران پولیس نے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوکیشن سینٹر(ایس کے آئی سی سی) میں منعقدہ وزیر اعلیٰ‘ عمرعبداللہ کی حلف برادری تقریب کے دوران قومی ترانہ بجاتے وقت ایک فرد کے کھڑے نہ ہونے کے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے ۔
سرینگر پولیس نے’ ایکس ‘پر جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایا ’’پولیس نے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ حلف برداری تقریب کے دوران ایک فرد کی جانب سے کھڑے نہ ہونے کے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے ‘‘۔
پولیس نے کہاکہ بی این ایس کے سیکشن۱۷۳(۳)کے تحت کارروائی عمل میں لا کر ایس پی رینک کے ایک آفیسر کی سربراہی میں ابتدائی تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔
پولیس بیان کے مطابق قانونی کارروائی کیلئے الیکٹرانک شواہد (سی سی ٹی وی فوٹیج) کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔










