سرینگر//
شمالی کشمیر کے رکن پارلیمان اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ ‘انجینئر رشید کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا الاینس کو حمایت دینے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ وہ انہیں پارلیمنٹ میں دفعہ۳۷۰کی بحالی کیلئے ایک قرار داد پیش کرنے کی تحریری یقین دہانی دیں۔
سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران شمالی کشمیر کے ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید نے واضح کیا ہے کہ ان کی پارٹی انڈیا اتحاد کومکمل حمایت کرے گی اگر وہ پارلیمنٹ میں دفعہ ۳۷۰کی بحالی کیلئے قراردادپیش کرنے کی یقین دہانی کرائے ۔
رشید نے کہاکہ اگر تحریری طورپر انڈیا اتحاد یقین دہانی کراتا ہے تو عوامی اتحاد پارٹی اسمبلی انتخابات میں انڈیا الائنس کو مکمل حمایت دے گی۔
اے آئی پی کے سربراہ نے کہاکہ اسمبلی انتخابات میں عوامی اتحاد پارٹی کے امیدواروں کے حق میں لوگوں کو اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔
ان کے مطابق کم از کم ۴۰نشستوں کیلئے ہم لوگوں سے دست تعاون چاہتے ہیں تاکہ نئے کشمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے ۔
انجینئر رشید نے واضح کیا کہ وہ نہ پاکستان کے ایجنٹ ہیں اور نہ ہی بھارت کے دشمن ۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ پر طنز کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہاکہ این سی نے ایک تفصیلی منشور جاری کیا جس میں کئی وعدئے کئے گئے ہیں لیکن جب این سی اقتدار میں تھی تو ان وعدوں کوعملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نئی دہلی جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ کے دستخط کے بغیر افضل گورو کو تہاڑ میں کیسے پھانسی دے سکتی تھی۔
انجینئر رشید نے کہا’’مجھ پر انگلیاں اٹھانا آسان ہے ، لیکن تہاڑ میں دن بھی گزارنا آسان نہیں ‘‘۔عمر عبداللہ اور پی ڈی پی کو بھی دفعہ۳۷۰کی منسوخی کے دوران سب جیل میں نظر بند رکھنے کے بارے میں جب انجینئر رشید سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ تہارڑ جیل میں پانچ سال کا وقت گزارنا اور آرام دہ ایس کے آئی سی سی میں کچھ وقت گزارنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا ’’سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے۲۰۱۴کے اسمبلی انتخابات کے دوران جموں وکشمیر میں بی جے پی کے داخلے کو روکنے کی خاطر لوگوں سے ووٹ مانگا تھا لیکن پھر کیا ہوا اسی پی ڈی پی نے بی جے پی کو لانچنگ پیڈفراہم کرکے لوگوں کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا‘‘۔
انجینئر رشید نے کہاکہ ان کی لڑائی پی ایم مودی کے نئے کشمیر بیانیہ کے خلاف ہے ، کیونکہ وزیر اعظم کا بیانیہ کشمیر میں پوری طرح سے ناکام ثابت ہو چکا ہے ۔










