سرینگر//
امریکی سفارت کاروں کی ایک سہ رکنی وفد نے منگل کے روز یہاں پیپلز کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر سجاد لون کے ساتھ ملاقات کی۔
بتادیں کہ امریکی وفد پیر کے روز نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور سابق سری نگر میئر جنید متو سے ملاقی ہوئی۔
سیاسی امور کے مشیر گراہم مائر کی سربراہی میں فرسٹ سکریٹری گیری ایپل گارتھ اور سیاسی کونسلر ابھیرام گھڑیا پاٹل کے ساتھ امریکی سفارت کے وفد کا یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب جموں و کشمیر میں قریب ایک دہائی کے طویل عرصے کے بعد اسمبلی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔
یہ دفعہ۳۷۰کی تنسیخ اور جموں وکشمیر کو دو حصوں میں منقسم کرنے کے بعد جموں و کشمیر میں پہلے اسمبلی انتخابات ہیں۔
پیپلز کانفرنس کے ترجمان عدنان اشرف میر‘جو اس میٹنگ میں شریک تھے‘نے بتایا’’ کونسلر برائے سیاسی امور گراہم مائرکی قیادت والی امریکی سفارت کاروں کی ایک وفد نے فرسٹ سکریٹری گیری ایپل گارتھ اور سیاسی کونسلر ابھیرام گھڑیا پاٹل کے ساتھ آج پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی‘‘۔
میر نے کہا کہ میٹنگ کے دوران مختلف النوع مسائل پر گفت و شنید ہوئی۔
کشمیر میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کرنے والے امریکی وفد سے وابستہ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ سابق ریاست میں زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ایک’معمول کے آئوٹ ریچ پروگرام‘کا ایک حصہ ہے ۔
پیر کے روز مذکورہ امریکی وفد سے ملاقات کرنے کے بعد عمر عبداللہ نے سفری ایڈوائزری کادوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکی حکومت نے جولائی میں اپنے شہریوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ خطے کا سفر کرنے سے گریز کریں۔










