سرینگر//
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق وادی کشمیر میں ہفتے کی صبح سے موسلا دار بارشیں شروع ہوئیں جن سے گرچہ ایک طرف لوگوں کو شدید گرمیوں سے راحت نصیب ہوئی تاہم بعض علاقے بادل پھٹنے یا بھاری بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے زیر آب آگئے ۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اچھ گوزہ کلر علاقے میں بادل پھٹنے سے سیلابی ریلے آگئے جن سے علاقے کے ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔انہوں نے کہا کہ پانی سے سڑکیں اور گلی کوچے اور صحن زیر آب آگئے ۔
مقامی لوگوں کے مطابق پانی کئی رہائشی مکانوں کے اندر داخل ہوا جس سے مکینوں کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم اس واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔
ادھرمعلوم ہوا ہے کہ وسطی ضلع گاندربل کے کنگن ، جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں میں بادل پھٹنے کی وجہ سے بستیاں زیر آب آگئی ہیں۔
نامہ نگار نے بتایا کہ وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں ہفتے کی صبح بادل پھٹنے کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوئی جس دوران پانی رہائشی مکانوں میں گھس آیا۔ضلعی انتظامیہ کے سینئر آفیسران فوری طورپر جائے موقع پر پہنچے اور پانی کے نکاس کو یقینی بنانے کی خاطر فوری طورپر اقدامات اٹھائیں۔
موسمیات محکموں کی ٹیمیں صورتحال پر کڑی نظر گذر رکھی ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق بارشوں کی وجہ سے شہر سری نگر کے کئی علاقوں کی سڑکیں بھی زیر آب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان سڑکوں، جو سڑکیں کم جھیل جھرنے زیادہ نظر آر ہے ہیں، پر لوگوں خاص کر عمر رسیدہ افراد، خواتین اور بچوں کا چلنا پھرنا مشکل ہوگیا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر گاڑیاں چلنے سے اٹھنے والی چھینٹیں دور دور تک چلنے والے مسافروں کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ کرکے رکھ دیتی ہیں۔
دریں اثنا محکمہ موسمیات کے مطابق جموںکشمیر میں۱۸سے۲۰؍اگست تک کئی مقامات پر صبح اور شام کے وقت ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں کے مختصر مرحلوں کا امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ بعد ازاں۲۱سے۲۳؍اگست تک کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں ہوسکتی ہیں۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ جموں خطے میں بھاری بارشوں سے بعض علاقوں میں اگلے تین دنوں کے دوران سیلابی ریلے ، لینڈ سلائینڈنگ، مٹی کے تودے اور چٹانیں کھسک آنے کے خطرات ہیں۔










