اتوار, نومبر 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

الیکشن عوامی خواہشات کی تکمیل کیلئے نہیں

بلکہ حصول اور تحفظ اقتدار کی خاطر لڑے گے!

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2024-06-01
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

 سیاحتی مقامات کنکریٹ جنگل میں بدل رہے ہیں

پن بجلی منصوبوں پر عدالتی فیصلہ

پالیمانی الیکشن کا ساتواں اور آخری مرحلہ آج یکم جون کو اختتام کو پہنچ جائے گا۔ تین دن بعد ۴؍جون کو اس ساری انتخابی معرکہ آرائی کے نتائج کا اعلان متوقع ہے۔ کون اس معرکہ آرائی میںسُر خ رئو ہوگا اور کس کے مقدر میں شکست ہوگی کچھ حتمی طور سے کہا نہیں جاسکتا ہے البتہ الیکشن پراسیس کے حوالہ سے صورتحال پر قریبی اور گہری نگاہ رکھنے والوں کی جانب سے جو اعداد وشمارات کا میابیوں اور ناکامیوں کے حوالوں سے پیش کئے جارہے ہیں وہ محض قیاسات اور اٹکلیوں سے عبارت ہے کچھ کہا تو نہیں جاسکتا ہے البتہ اُلجھوں کے انبوہ ضرور نظرآرہے ہیں۔
حکمران جماعت کا مسلسل دعویٰ ہے کہ اب کی بار چارسو پار جبکہ تجزیہ کار حکمران جماعت کو ۲۳۰؍ اور اس کی اتحادی جماعتوںکو ۳۰۔۴۰؍ کے درمیان حلقوں سے کامیابی کا عندیہ دے رہے ہیں۔ اسی طرح تجزیہ کاروں کا دوسرا طبقہ کانگریس کی قیادت میںانڈیا الائنس کو حکمران جماعت کے برعکس اقتدار کے قریب تر قراردے رہے ہیں۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ الائنس کی جیت کی صورت میں الگے ۴۸؍ گھٹنے کے اندراندروزیراعظم کے عہدے پر نامزدگی کا فیصلہ کیاجائے گا جبکہ حکمران جماعت اپنی تیسری جیت کی صورت میں روایت سے ہٹ کر نئی پارلیمنٹ عمارت سے منسلکہ شاہراہ پر حلف برداری کی تقریب منعقد کرنے کی تیاریوں میں جٹ گئی ہے۔
پارٹیوں کی ان تیاریوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حالیہ الیکشن عوام کی اُمنگوں، ضرورتوں، درپیش مسائل اور معاملات کا باوقار اور بااعتماد حل تلاش کرنے کی سمت میں نہیں بلکہ ایک دھڑا اپنے تحفظ اقتدار کیلئے میدان میںاُترا تھا جبکہ دوسرا حصول اقتدار کیلئے میدان میں ڈٹا رہا۔ حصول اقتدار اور تحفظ اقتدار کی اس جنگ میں نہ صرف عوام کی خواہشات، احساسات ، ضروریات اور دیرینہ اُمنگیں کیجولٹی بن گئیں بلکہ بدکلامی، بے ہودہ اور اخلاقیات سے گرے دعوئوں ، اقلیتوں کے تعلق سے آبادی کے ایک مخصوص فرقے کو نشانہ بنابناکر اس کی کردار کشی کرنے بلکہ ایک عفریت کے طور پیش کرنے، اندھی سیاسی مصلحتوں کے تابع مذہب اور مذہبی جذبات کا بدترین استحصال کرنے، اور مذہب کے نام پر سماج کے مختلف طبقوں کے درمیان ہم آہنگی اور رواداری کو دانستہ طور سے نقصان پہنچانے ، ایسے معاملات کو لے کر ملک کے طول وارض میںالیکشن کی آڑ میں کچھ نئے ریکارڈ بھی قائم کرلئے گئے ہیں۔
بدقسمتی یہ کہی جاسکتی ہے کہ چنائو کمیشن ان سارے معاملات کو دیکھنے، سننے ، محسوس کرنے، مختلف حلقوں کی جانب سے شکایتوں کو سُننے کے باوجود بے عمل اور بے اعتناہی رہا بلکہ کچھ ایک سنگین معاملات پر اس رائے کو بھی پیش کرتا رہا کہ ’’چنائو کمیشن نہیںسمجھتا کہ ایسا کرکے کسی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔اس حوالہ سے قانونی اور آئینی ماہرین اور ناقدین اس با ت پر متفق ہیں کہ چنائو کمیشن سے جس عمل، پہل اور تادیبی کارروائی کی توقع رہی ہے چنائو کمیشن توقعت اور حد سے زیادہ جانبدار ثابت ہوا ہے‘‘۔
اس حوالہ سے سوشل میڈیا پر وائرل ان معاملات کا حوالہ دیا جارہاہے جو اُترپردیش اور چند دوسرے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جن میں ایک مخصوص اقلیتی فرقے کے ووٹروں نے اپنے چھلنی جسموں کو اس دعویٰ کے ساتھ پیش کیا کہ وہ ووٹروں کی قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کررہے تھے لیکن پولیس اور مخصوص پارٹیوں کے ورکروںنے ان کے شناختی کارڈ چیک کرکے انہیں نہ صرف حق رائے دہی سے محروم کیا بلکہ شناختی اور آدھار کارڈ چھین کر ان پر ڈنڈے برسائے، یہ مخصوص معاملات اُتر پردیش کے کئی ایک پارلیمانی حلقوں میںپیش آئے ہیں، پارلیمانی حلقہ جہاں سے اسد الدین اویسی بحیثیت اُمیدوار الیکشن لڑ رہے تھے کی مخالف خاتون اُمیدوار اپنے حامیوں کے ساتھ مسلمان خاتون ووٹروں کی شناخت بھی چیک کرتی پائی گئی جبکہ پولیس اپنی ناک کے نیچے ہورہی اس نسل پرست عمل کا تماشہ دیکھتی رہی ۔
ملک کی ۲۲؍ کروڑ مسلمان آبادی کا محض پچاس فیصد کے قریب ووٹرں ہیں لیکن مشکل سے ہی کسی سیاسی پارٹی بشمول حکمران اتحاد اور اپوزیشن اتحاد نے اپنی طرف سے کسی پارلیمانی حلقے سے کسی مسلمان اُمیدوار کو الیکشن میدان میںاُتارا ہے لیکن اس کے باوجود ملک کی مسلم اقلیت کو الیکشن ریلیوں اور تقریروں کے دوران خاص طور سے نشانہ بنایاجاتارہا، کبھی انہیں اورنگ زیب کی اولاد قراردیاگیا ، کہیںان میںاورنگ زیب اور ٹیپو سلطان کی روح سرائیت کرنے کا طعنہ دیاگیا ، کہیں اذان کولے کر یہ اعلان بھی سناگیا کہ اب اگلے پانچ سال کے دوران مسلمان بھول جائیں گے کہ کہیں اذان بھی ہواکر تی تھی، کیا اس نوعیت کی تقریریں،بدکلامی، اخلاقیات سے گری نازیبازبان اور زبان درازی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں، اس پر چنائو کمیشن کی بے اعتنائی یہ ثا بت کرتی ہے کہ یہ چنائو کمیشن اپنی آئینی اور خودمختار حیثیت کا کہیں سودا کرکے اب تماشائی کاکردارنبھا رہا ہے۔
انتخابی نتائج کس کے حق میں ہوں گے اور شکست کس کے مقدر میں لکھی جائیگی قطع نظراُس کے یہ بات اب قدرے واضح ہوتی جارہی ہے کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیبی وراثت، صدیوں سے چلی آرہی فرقہ وارانہ یگانگت، بھائی چارہ اور رواداری کی سطح اب وہ نہ رہیگی جو ملک ہندوستان کا طرۂ امتیاز رہ چکی ہے۔ چاہئے مرکزمیںکوئی بھی اتحاد اقتدار میں آجائے، یہ سارے معیارات اور صدیوں پرانی روایات کا حشر جو ہونے جارہاہے وہ تصورمیں بھی رونگٹے کھڑا کردیتا محسوس ہورہاہے۔
البتہ ملک کے طول وارض میںموجود وہ حلقے جو آئین اور جمہوریت میں اعتماد رکھتے ہیں اس حوالہ سے فکر مند بھی نظرآرہے ہیں اور تشویش میں بھی مبتلا ہیں۔ یہ حلقے ، جوغالباًعددی اعتبار سے فی الوقت اقلیت میںہیں، جو کچھ بھی محسوس کررہے ہیں اور جن خیالات کو زبان دے رہے ہیں اس سے یہ احساس ضرور اُجاگر ہوتا جارہاہے کہ ابھی ملک کے اندر وہ کچھ حلقے اور طبقے موجود ہیں جوآپسی رواداری اور عدم مداخلت کے اصولوں اور آدرشوں کو اہمیت دے رہے ہیں اور خود بھی ان پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن اندھی اکثریت جوا ب بتدریج ایک کلٹ کی ہیت اختیار کرتی جارہی ہے کے سامنے خود کو بے بس تصور کررہی ہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

آخری مرحلہ…!

Next Post

ہندوستانی باکسنگ فیڈریشن ورلڈ باکسنگ کا رکن بنا

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

 سیاحتی مقامات کنکریٹ جنگل میں بدل رہے ہیں

2026-10-31
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پن بجلی منصوبوں پر عدالتی فیصلہ

2026-10-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

کابینہ کی توسیع اور ناراضگیوں کا امتحان

2026-10-28
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کابینہ میں توسیع اور رد و بدل: عوامی توقعات پر پورا اترنے کا امتحان

2026-10-27
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

اونتی پورہ ایمز کی فعالیت: وادی کے طبی نظام میں بہتری کی ایک نئی امید

2026-10-25
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرما سے پہلے بجلی بحران کی دستک

2026-10-24
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

میڈیکل انٹرنز کے وظیفے میں اضافہ، ایک مستحسن فیصلہ

2026-10-22
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں کشمیر پراو آئی سی کا دوہرا معیار

2026-10-21
Next Post

ہندوستانی باکسنگ فیڈریشن ورلڈ باکسنگ کا رکن بنا

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.