منگل, ستمبر 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home مقامی خبریں

سردی میںروایتی لباس پھیرن کشمیر سے اب بین الاقوامی بازاروں تک پہنچ رہا ہے

’اب ملک کے مختلف حصوں سے مجھے آرڈر ملتے ہیں جن میں خواتین بھی ہوتی ہیں اور مرد بھی ہوتے ہیں‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2023-12-15
in مقامی خبریں
A A
’پھیرن پہننے سے ڈرو اور نہ شرم محسوس کرو‘ یہ ہماری شناخت اور کلچر کا حصہ ہے ‘

Pheran

FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

 آئندہ۲۴سے۴۸ گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کا امکان

واتھورہ میں ٹرک کی زد میں  آکر۱۷ سالہ لڑکا جاں بحق

سرینگر//
وادی کشمیر میں موسم سرما کی ٹھٹھرتی سردیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے استعمال کیا جانے والا روایتی لباس پھیرن مقامی سطح پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر لوگوں کی الماریوں کی زینت بن رہا ہے ۔
وادی کی منفرد دستکاریاں تو دنیا کے گوشہ و کنار میں پہلے ہی اپنا مقام حاصل کر چکی ہیں اور کانگڑیوں کے بعد اب روایتی پھیرن عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا کر کشمیری کلچر کی ایک علامت بن رہا ہے ۔
پھیرن ایک لمبا اور ڈھیلا ڈھالا لباس ہے ۔ کشمیر میں اس کو زمستانی ہوائوں کا مقابلہ کرنے کیلئے صدیوں سے استعمال کیا جاتا ہے ۔
عصر حاضر میں اس کو نہ صرف جدید تقاضوں کے مطابق بلکہ مروجہ فیشن کے مطابق بھی تیار کیا جاتا ہے اور بازاروں میں جدید ترین اور مختلف النوع ملبوسات کی دستیابی کے با وصف لوگ زن ومرد ہوں یا خورد و جوان ہوں اس کو سرما کی دستک کے ساتھ ہی زیب تن کرتے ہیں۔پھیرن کو متعدد ای کامرس ویب سائیٹوں کی وساطت سے کشمیری پھیرن کو بین الاقوامی شناخت حاصل ہو رہی ہے ۔
قومی ای کامرس پلیٹ فارم پر بھی کشمیری پھیرن دستیاب ہے اور اس کو ملک بھر میں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ان ہی پلیٹ فارموں سے پھیرن دنیا بھر کے لوگوں کی الماریوں کی زینت بن رہا ہے اور اس کی خریداری میں اضافہ درج ہو رہا ہے ۔
محمد رضوان نامی ایک دکاندار نے بتایا کہ میں آن لائن پھیرن فروخت کرتا ہوں اور ملک کے مختلف حصوں سے مجھے آرڈر ملتے ہیں جن میں خواتین بھی ہوتی ہیں اور مرد بھی ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف ڈیزائنوں کے پھیرن لوگ کافی پسند کرتے ہیں اور ان کو خرید کر پہنتے بھی ہیں۔
وادی میں شہر ہوں یا دیہات لوگ موسم سرما سے قبل ہی اس مخصوص لباس کو تیار کرنے کیلئے کپڑا خرید کر درزیوں کے پاس جاتے ہیں ان کو اولین فرصت میں تیار کراتے ہیں۔
مدثر احمد نامی ایک دکاندار جس کا قصبہ بڈگام میں کپڑے کا دکان ہے ، نے بتایا کہ آج کے دور میں بھی موسم خزاں میں ہی لوگ یہاں آکر پھیرن بنانے کے لئے کپڑا خریدتے ہیں۔انہوں نے کہا’’میرے دادا نے یہ دکان پچاس برس پہلے قائم کی تھی اب میں گذشتہ دس برسوں سے اس دکان کو چلاتا ہوں، ہم پھیرن بنانے کے لئے ہر سال کئی اقسام کا کپڑا لاتے ہیں جس کی ہر سال بھر پور خریداری ہوتی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا’’نہ صرف عمر رسیدہ بلکہ زیادہ تعداد میں جوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی اپنی پسند کے کپڑے خرید کرپھیرن تیار کرکے پہنتے ہیں‘‘۔
وادی میں موسم سرما میں سردیوں کی لہر تیز تر ہونے کے ساتھ ہی پھیرن میں ملبوس لوگوں کی تعداد میں اضافہ درج ہونے لگتا ہے اور لوگوں کی بھاری اکثریت اسی لباس میں گھروں میں بیٹھے یا بایر گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جو باہر کے سیاح ہوں یا مختلف شعبوں کے بر سر آوردہ شخصیات سردیوں میں وارد وادی ہوتے ہیں وہ بھی یہاں پھیرن لگاتے ہیں۔
ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جب وارد وادی ہوئے تو انہوں نے بھی یہاں پھیرن زیب تن کیا اور حال ہی میں جب بالی ووڈ سٹار جان ابرہیم یہاں اپنی فلم کی شوٹنگ پر تھے تو انہوں نے بھی پھیرن پہن کر ایک ویڈیو بیان جاری کیا۔وادی میں آج کے دور میں فیشن کے مطابق مختلف ڈیزائنوں کے خوبصورت پھیرن تیار کئے جاتے ہیں۔
محمد مسرور نامی ایک ٹیلر نے بتایا کہ میں کم سے کم ۸ڈیزائنوں کے پھیرن تیار کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ عمر رسیدہ افراد سے زیادہ نوجوان نئے ڈیزائن کے پھیرن تیار کرکے پہنتے ہیں۔ان کا کہنا تھا’’پہلے تو ایک سیزن کے لئے ایک فرد ایک پھیرن تیار کراتا تھا آج تو جوان ایک سیزن کے لئے دو تین پھیرن تیار کرکے پہنتے ہیں‘‘۔
درزی نے کہا کہ موسم سرما کے دوران جو پھیرن پہننے کا رش بیس سال پہلے تھا آج اس میں کافی اضافہ درج ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کے پہننے والوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے تاہم آج کی نسل نئے ڈیزائنوں کے پھیرن پہننا پسند کرتے ہیں۔
محمد اکبر نامی ایک سبکدوش ہیڈ ماسٹر نے کہا’’پھیرن ہمارا روایتی لباس ہے یہ ہمارے شاندار کلچر کا ایک اہم حصہ ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس کو معدوم نہ ہونے دیں بلکہ اس کے فروغ اور اس کو زندہ رکھنے کے لئے اس کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

یورپی یونین نےمغربی کنارے انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے خلاف پابندیاں لگانے کی سفارش کی

Next Post

آر ایس پورہ :اراضی تنازعہ پر فائرنگ میںدو افراد زخمی

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بالائی علاقوں میں تازہ برفباری‘ میدانی علاقوں میں بارش
اہم ترین

 آئندہ۲۴سے۴۸ گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کا امکان

2026-09-01
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

واتھورہ میں ٹرک کی زد میں  آکر۱۷ سالہ لڑکا جاں بحق

2026-09-01
جموں اورپنچاب کے سرحدی علاقوں میں ڈرون کی بڑھتی سرگرمیاں فورسز کیلئے چیلنج
اہم ترین

پونچھ میں ایل او سی کے قریب مشتبہ پاکستانی ڈرون کی پرواز

2026-08-30
کشمیر:بارش نہ ہونا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ ہونے کی وجہ:ماہر موسمیات
اہم ترین

آئندہ۱۰ روز کے دوران موسم گرم  اور مرطوب رہنے کا امکان: محکمہ موسمیات

2026-08-29
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

دھوکہ دہی اور فراڈ: بی جے پی ضلع اننت کے جنرل سیکریٹری کیخلاف مقدمہ درج

2026-08-29
موقف واضح ہے‘ ریاستی درجہ بحال ہونے تک کانگریس کابینہ میں شامل نہیں ہوگی: طارق کرہ
اہم ترین

موقف واضح ہے‘ ریاستی درجہ بحال ہونے تک کانگریس کابینہ میں شامل نہیں ہوگی: طارق کرہ

2026-08-28
عید الفطر آج منائی جا رہی ہے
اہم ترین

عید میلاد النبی کشمیر بھر میں مذہبی عقیدت کے ساتھ منائی گئی

2026-08-27
جموں و کشمیر میں بڑا ردوبدل‘۸۲پولیس افسران تبدیل
اہم ترین

سونے کے زیورات چوری کے متعدد مقدمات حل، دو افراد گرفتار

2026-08-27
Next Post

آر ایس پورہ :اراضی تنازعہ پر فائرنگ میںدو افراد زخمی

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.