’تعلیمی اداروں کی کامیابی طلبہ کی ایسی تربیت کرنا ہے کہ وہ صحیح اور غلط میں فرق اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرسکیں ‘
سرینگر؍ ۵ نومبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج کنونشن سینٹر جموں میں ڈیوسیس آف جموں سرینگر ایجوکیشن سوسائٹی (ڈی جے ایس ای ایس) کی سالانہ تقریب ’’آنر اینڈ ایکسیلنس ۲۰۲۶‘‘ میں شرکت کی۔ تقریب میں تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیوں، مخلصانہ خدمات اور ذمہ دار شہریوں کی تشکیل میں سوسائٹی کے کردار کو سراہا گیا۔
تقریب کے دوران دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ ۲۵ سالہ خدمات مکمل کرنے والے ملازمین اور سوسائٹی کے ممتاز سابق طلبہ کو بھی سراہا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کا مقصد محض تعلیمی کارکردگی اور نمبروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے متوازن افراد کی تشکیل ہونا چاہیے جن میں مضبوط اخلاقی اقدار، آزادانہ سوچ اور صحیح و غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہو۔
ڈیوسیس کے تعلیمی اداروں، بالخصوص برن ہال اسکول سرینگر سے اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے، جہاں انہوں نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، وزیر اعلیٰ نے اپنے تعلیمی دور کی خوشگوار یادیں تازہ کیں اور تعلیم و کردار سازی میں ادارے کے دیرپا کردار کو سراہا۔
عمر عبداللہ نے ڈیوسیس آف جموں سرینگر ایجوکیشن سوسائٹی کی تعلیمی شعبے میں نمایاں خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی جموں و کشمیر اور لداخ میں ۲۴ اسکول چلا رہی ہے، جہاں تقریباً ۲۸ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں اور لگ بھگ ۱۶۰۰ افراد کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یہ اسکول سول سروسز افسران، پولیس افسران، ڈاکٹروں اور کاروباری رہنماؤں کو تیار کرتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ ایسے کامیاب افراد پیدا کرتے ہیں جو اچھے انسان بھی رہتے ہیں۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ کسی تعلیمی ادارے کی حقیقی کامیابی ایسے افراد کی تربیت میں ہے جو صحیح اور غلط میں تمیز کر سکیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔
آزادانہ سوچ اور تجسس کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سوالات پوچھنے سے نہ گھبرائیں اور خیالات کو پرکھنے اور جواب تلاش کرنے کا اعتماد پیدا کریں۔انہوں نے کہا، ’’کوئی سوال احمقانہ نہیں ہوتا، صرف جواب احمقانہ ہو سکتے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ایسی نسل کی ضرورت ہے جو موجودہ طریقہ کار پر سوال اٹھائے، اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کو سمجھے اور حالات بہتر بنانے کے طریقے تلاش کرے۔انہوں نے کہا، ’’سوالات پوچھنے والی نسل ہم سب کو جواب دہ بنائے گی اور اگر ہم جواب دہ ہوں گے تو کل کا جموں و کشمیر ایک بہتر جگہ ہوگا۔‘‘
آزادانہ تعلیم کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے طلبہ کو مطالعے کی عادت اپنانے اور مصنوعی ذہانت کا ذمہ داری اور اخلاقی طور پر استعمال کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور سمجھنے میں مددگار ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی محنت، تنقیدی سوچ اور علمی تجسس کا متبادل۔
نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ان کی تعلیمی کارکردگی کو سراہا اور ۲۵ سالہ خدمات مکمل کرنے والے ملازمین کی تعلیم کے لیے لگن کی تعریف کی۔
وزیر اعلیٰ نے تعلیمی سوسائٹی کے اساتذہ، عملے اور انتظامیہ کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ادارے نہ صرف تعلیم فراہم کر رہے ہیں بلکہ اقدار، ہمدردی اور ذمہ داری کے احساس سے آراستہ متوازن انسانوں کی تشکیل بھی کر رہے ہیں۔
سوسائٹی نے تعلیمی سال ۲۰۲۵-۲۶ کے دوران دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں مجموعی طور پر ۹۹ فیصد کامیابی درج کی۔
عمرعبداللہ نے ممتاز سابق طلبہ کو اعزازات سے نوازنے کی سوسائٹی کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ سابق طلبہ کی کامیابیاں نئی نسل کے لیے تحریک کا باعث ہیں۔
نوجوانوں کو انسانیت اور اخلاقی اقدار سے وابستہ رہتے ہوئے بہترین کارکردگی کے لیے کوشش کرنے کی تلقین کی ۔انہوں نے کہا کہ تمام کامیابیوں سے بڑھ کر اہم ذمہ داری اچھا انسان بننا اور ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور ہمدردی سے پیش آنا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اپنے آپ کو ایسا انسان بنائیں کہ جب آپ کا مستقبل لکھا جا رہا ہو تو اللہ تعالیٰ آپ سے پوچھے کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں صرف اچھے لوگ، اچھے انسان بننا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ہے۔ باقی سب خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)








