سرینگر؍ ۵ نومبر
مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے جمعرات کو جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں زیر تعمیر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس) اونتی پورہ کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعلقہ اداروں کو باقی کاموں میں تیزی لانے اور اس اہم طبی ادارے کو جلد فعال بنانے کی ہدایت دی۔
دورے کے دوران نڈا نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، طبی آلات کی خریداری، تدریسی عملے اور دیگر ملازمین کی بھرتی کے علاوہ بیرونی مریضوں اور تعلیمی خدمات کے آغاز کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
مرکزی وزیر کو بتایا گیا کہ اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ کی تمام بڑی عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ باقی تعمیراتی کام مرحلہ وار جاری ہیں۔
نڈا نے مرکزی محکمہ تعمیرات عامہ (سی پی ڈبلیو ڈی)، ہائٹس اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے دشوار گزار علاقے اور دیگر مشکلات کے باوجود بنیادی ڈھانچے کے اہم حصے مکمل کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو کام کی رفتار برقرار رکھنے اور باقی تعمیراتی سرگرمیاں مارچ ۲۰۲۷ تک مکمل کرنے کی ہدایت دی۔
مرکزی وزیر کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے کے بنیادی ڈھانچے میں او پی ڈی رجسٹریشن بلاک، او پی ڈی بلاک، رہائشی عمارتیں اور مخصوص ہاسٹل مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ سامان کی تصدیق اور باضابطہ حوالگی کا عمل جاری ہے۔
صحت خدمات میں مزید تاخیر نہ کرنے پر زور دیتے ہوئے نڈا نے ہائٹس اور اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو باہمی تال میل کے ساتھ طبی آلات، او پی ڈی کے سازوسامان، تجربہ گاہوں کے آلات اور طبی و انتظامی فرنیچر کی خریداری میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔
۱۸۰ طبی آلات کی خریداری کے لیے ۵۹.۴۱ کروڑ روپے کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ ۱۴۰ آلات کے لیے نوٹس آف ایوارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ باقی خریداری کے عمل، بشمول او پی ڈی آلات، تجربہ گاہوں کے فرنیچر اور طبی و انتظامی فرنیچر کی خریداری، مختلف مراحل میں ہیں۔
مجوزہ نظام الاوقات کے مطابق اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ میں او پی ڈی خدمات دسمبر ۲۰۲۶ سے قبل شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ داخل مریضوں کے شعبے (آئی پی ڈی) کی خدمات جولائی ۲۰۲۷ میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، اس کا انحصار ضروری بنیادی ڈھانچے اور انتظامی تیاریوں کی تکمیل پر ہوگا۔
ایم بی بی ایس کلاسوں سمیت تعلیمی سرگرمیاں بھی جون تا جولائی ۲۰۲۷ میں شروع ہونے والے تعلیمی سیشن ۲۰۲۷-۲۸ کے دوران شروع کرنے کی تجویز ہے۔
نڈا نے بھرتیوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور ادارے کی انتظامیہ کو اہل تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تقرریوں میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔وزارت نے او پی ڈی اور متعلقہ خدمات کے آغاز کے لیے ضروری عملے کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ انتظام کے تحت مختلف زمروں میں ۶۵۲ عہدوں پر بھرتی کی جائے گی، جن میں حفاظتی عملہ، اسپتال کے معاونین اور صفائی و ستھرائی کے ملازمین شامل ہیں۔
مرکزی وزیر نے ادارے کے ہموار کام کاج کے لیے کیمپس کی حفاظت، آمدورفت کی سہولیات، ویب سائٹ کی تیاری اور عملی شراکت داریوں کے مناسب انتظامات پر بھی زور دیا۔
اے آئی آئی ایم ایس میں ۱۰۰ ایم بی بی ایس نشستوں کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہونے کی امید: سکینہ ایتو
دریں اثنا، جموں و کشمیر کی وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے نڈا کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ میں ۱۰۰ ایم بی بی ایس نشستوں کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوں گی۔
مرکزی وزیر کے دورے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایتو نے کہا کہ ۱۰۰ ایم بی بی ایس طلبہ کے داخلے کی مجوزہ تعداد جموں و کشمیر میں طبی تعلیم کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پہلے ۵۰ ایم بی بی ایس نشستوں کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اب مرکزی وزیر صحت نے اشارہ دیا ہے کہ ادارے میں ۱۰۰ طلبہ کے داخلے کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوں گی۔
ایتو نے کہا، ’’یہ ہمارے لیے انتہائی اطمینان کی بات ہے۔ پہلے ۵۰ ایم بی بی ایس نشستوں کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اب مرکزی وزیر صحت نے اشارہ دیا ہے کہ جلد ہی ۱۰۰ طلبہ اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ میں اپنی تعلیم شروع کریں گے۔‘‘
موصوفہ نے او پی ڈی خدمات جلد شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سے لوگوں، بالخصوص جنوبی کشمیر کے باشندوں کو کافی راحت ملے گی، جنہیں خصوصی مشاورت اور علاج کے لیے اکثر سرینگر اور دیگر مقامات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
ایتو نے کہا کہ اے آئی آئی ایم ایس کے فعال ہونے سے موجودہ طبی نظام مضبوط ہوگا اور وادی کے بڑے تیسرے درجے کے اسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کئی مرتبہ منصوبے کے مقام کا دورہ کرکے پیش رفت کا جائزہ لے چکے ہیں اور اس کی جلد تکمیل پر زور دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ بھی وزیر اعلیٰ کے ساتھ کئی دوروں میں شامل رہی ہیں اور ادارے کو مزید تاخیر کے بغیر فعال بنانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
قابل ذکر ہے کہ اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ جموں و کشمیر میں شروع کیے گئے صحت کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں میں شامل ہے اور توقع ہے کہ یہ خصوصی علاج، طبی تعلیم اور جدید تحقیق کے اہم مرکز کے طور پر ابھرے گا۔
تاہم، ادارہ فعال ہونے کی کئی سابقہ آخری تاریخیں پوری نہیں کر سکا ہے، جبکہ جنوبی کشمیر کے مریض اور باشندے اب بھی اس کی خدمات شروع ہونے کے منتظر ہیں۔
مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد یہ ادارہ جنوبی کشمیر اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے دیگر حصوں کے مریضوں کو خدمات فراہم کرے گا، جس سے لوگوں کو خصوصی علاج کے لیے سرینگر اور دیگر شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔
اس کے فعال ہونے سے شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ اور گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر سمیت موجودہ بڑے طبی اداروں پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے، جبکہ خطے میں طبی تعلیم اور خصوصی صحت خدمات کے مزید مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









