سری نگر؍۳۱؍اکتوبر
نیشنل کانفرنس کے وہ ارکانِ اسمبلی جو منگل کے روز کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کے معاملے پر پارٹی قیادت کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں، نے مطالبات کی ایک فہرست پر مشتمل یادداشت تیار کی ہے۔
ان مطالبات میں کابینہ میں ردوبدل، ریاستی درجے اور دفعہ۳۷۰ کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کرنے اور پارٹی کے۲۰۲۴ کے انتخابی منشور پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد شامل ہے۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ یادداشت پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر بھیجی گئی ہے، تاہم نیشنل کانفرنس نے ابھی تک یادداشت موصول ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ یادداشت جمعہ کی دوپہر نیشنل کانفرنس کے رکنِ اسمبلی حلقہ لولاب قیصر جمشید لون کی رہائش گاہ پر۱۸؍ ارکانِ اسمبلی کی میٹنگ کے دوران تیار کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ ارکانِ اسمبلی نے پارٹی کے انتخابی منشور پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
یادداشت میں جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور دفعہ۳۷۰ کی بحالی کے لیے سیاسی جدوجہد تیز کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ارکانِ اسمبلی نے مشیر ناصر اسلم وانی اور ان وزراء کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے جنہوں نے اپنے عہدوں پر دو سال مکمل کر لیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پارٹی ارکانِ اسمبلی نے کابینہ کی جامع ازسرِنو تشکیل اور داچھی گام میں طے پائے اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ۳ جون کو داچھی گام میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے دوران پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور وزراء جاوید رانا اور ستیش شرما کے کام کاج پر سوالات اٹھائے تھے۔
حالیہ کابینہ ردوبدل کے دوران ستیش شرما کو وزارت سے ہٹا دیا گیا، جبکہ جاوید رانا کے کئی اہم محکمے واپس لے کر ان کا کردار محدود کر دیا گیا۔ تاہم نائب وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعمیراتِ عامہ اور محکمہ صنعت و حرفت اپنے پاس برقرار رکھے۔
اس گروپ میں شامل ایک رکنِ اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ انہیں۲۵ سے زائد ارکانِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور ان کا واحد مقصد نیشنل کانفرنس میں اصلاحات لانا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم نیشنل کانفرنس ہیں اور گزشتہ۳۰ برسوں سے ہم نے پارٹی کے لیے اپنا خون اور پسینہ بہایا ہے۔ ہم چند لوگوں کو پارٹی پر قبضہ کرنے یا اسے ایک تجارتی ادارے میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘
ایک دوسرے رکنِ اسمبلی نے الزام لگایا کہ جس وزیر کو داچھی گام اجلاس کے دوران سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، وہ اس کے باوجود اپنے اہم محکمے برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










