سرینگر؍۳۱؍ اکتوبر
نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما مبارک گل نے آج کہا کہ وہ۴ نومبر کو منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران پارٹی کے اندر پیش آنے والی پیش رفت کے بارے میں اپنی خاموشی توڑیں گے۔
ان کا یہ بیان پارٹی قیادت کی جانب سے علی محمد ساگر کو جنرل سیکریٹری کے عہدے پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر سوالات اٹھنے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے مبارک گل نے کہا کہ انہوں نے اب تک خاموشی اختیار کر رکھی تھی، تاہم۴ نومبر کو ذرائع ابلاغ سے خطاب کے دوران وہ نیشنل کانفرنس کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے بارے میں سب کچھ ظاہر کریں گے۔
ان کا یہ بیان اس سوال کے جواب میں سامنے آیا کہ علی محمد ساگر کو رواں ہفتے اس عہدے پر مقرر کیے جانے کے باوجود دوبارہ پارٹی کا جنرل سیکریٹری برقرار رکھنے کے لیے کیوں کہا گیا ہے۔
۲۷ ؍اکتوبر کو نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے مبارک گل کو جنرل سیکریٹری مقرر کیا تھا، کیونکہ علی محمد ساگر کو عمر عبداللہ کی سربراہی والی وزراء کونسل میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم،۳۰؍ اکتوبر کو پارٹی نے ایک نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے علی محمد ساگر کو آئندہ احکامات تک تنظیمی عہدے پر برقرار رہنے کی ہدایت دی، جس کے بعد مبارک گل کی تقرری کی حیثیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہوگئے۔
یہ پیش رفت حکمراں جماعت کے اندر حالیہ کابینہ توسیع کے بعد پائی جانے والی ناراضگی کے درمیان سامنے آئی ہے، جس میں کئی سینئر ارکانِ اسمبلی کو وزارت سے باہر رکھا گیا۔
۴ نومبر کو مبارک گل کی مجوزہ پریس کانفرنس سے ان کے موقف اور پارٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ان کے تحفظات کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آنے کی توقع ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










