استغفراللہ، استغفراللہ، اللہ میری توبہ! ……. نہایت گندی سوچ ہے آپ کی، بالکل گندی۔ ایسا آپ نے کیسے سوچ لیا کہ ہم عمر عبداللہ اور ان کی نئی نویلی دلہن کے بارے میں بات کر رہے ہیں، ان کے ہنی مون کا ذکر کر رہے ہیں؟ اللہ میاں کی قسم، ہم اس کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں کہ ……. کہ یہ ان کا نجی معاملہ ہے اور ہمیں کسی کے نجی معاملے پر بات کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے ……. بالکل بھی شوق نہیں ہے۔ہم جس ہنی مون کی بات کر رہے ہیں، وہ عمر عبداللہ کے ہنی مون کی بات کر رہے ہیں ……. ہمارا مطلب ہے کہ عمر عبداللہ سرکار کے ہنی مون کی، جو ……. جو ختم ہو گیا ہے اور اللہ میاں کی قسم، کچھ اس انداز میں ختم ہوا ہے کہ ……. کہ ہمیں ڈر لگ رہا ہے، اس بات کا ڈر کہ اس والے ہنی مون ……. عمر عبداللہ سرکار والے ہنی مون کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ان کی حکومت بھی ختم نہ ہو جائے۔ہمیں ڈر رہا ہے اور ……. اور یہ ڈر آج کا نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے۔ یہ ڈر اُس دن سے شروع ہوا جس دن عمر عبداللہ کا ہنی مون ……. ہمارا مطلب ہے کہ عمر عبداللہ کی سرکار کا ہنی مون شروع ہوا تھا ……. اسی دن سے ہمیں یہ ڈر لگ رہا تھا۔ اور یقین کیجیے کہ ہمیں ہی نہیں بلکہ خود عمر عبداللہ بھی اس سے ڈر رہے تھے ……. اور اس لیے ڈر رہے تھے کہ کہتے ہیں کہ ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔لیکن عمر عبداللہ کے ساتھ یہ معاملہ نہیں تھا، کشمیر اور کشمیریوں نے انہیں ہول سیل میں ووٹ دے کر ان کے اس ڈر کی داغ بیل ڈالی تھی اور ……. اور وہ دن اور آج کا دن، عمر اسی ڈر کے سائے میں جی رہے تھے ……. حکومت کر رہے تھے۔ یہ جناب اس ڈر کو دہلی سے مفاہمت کا نام دے رہے تھے ……. لیکن ……. لیکن اندر ہی اندر انہیں معلوم تھا اور ……. اور سو فیصد معلوم تھا کہ ……. کہ وہ کیوں ڈر رہے ہیں۔اور آج جب کہ انہوں نے اپنی کابینہ میں توسیع دی تو ……. تو اس ڈر نے بھی خود کو توسیع دیتے ہوئے دیو قامت شکل و صورت اختیار کر لی ہے اور سو فیصد کی ہے۔ہم سنتے آئے ہیں کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں ہوتیں ……. کچھ ایسا ہی معاملہ عمر عبداللہ کے ساتھ بھی ہے کہ ……. کہ ایک ہنی مون شروع بھی نہیں ہوا کہ دوسرا ختم ہوا اور سو فیصد ہوا۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔




