سرینگر؍۳۰؍ اکتوبر
جموں و کشمیر کی وزراء کونسل نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں۱۶۲ء۷۲ کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری سے دو نئے صنعتی اسٹیٹس قائم کرنے کی تجاویز کو منظوری دے دی ہے۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق، مجوزہ منصوبوں میں ضلع گاندربل کے لار علاقے میں پہلی پورہ کے مقام پر۶۰ء۹۲ کروڑ روپے کی لاگت سے نیا صنعتی اسٹیٹ قائم کرنا اور ضلع کٹھوعہ میں۱۰۱ء۸۰ کروڑ روپے کی لاگت سے صنعتی اسٹیٹ بھگتھلی (حصہ دوم) کا قیام شامل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ان منصوبوں سے صنعتی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، مقامی صنعت و پیداوار کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اس سے جموں و کشمیر میں پائیدار اقتصادی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر سرکلر اکانومی پالیسی پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ایک جامع کثیر سطحی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔ اس میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی، ضلعی سطح پر سرکلر اکانومی سیلز اور شہری بلدیاتی اداروں کی سطح پر کمیٹیاں شامل ہیں۔
اس اقدام کا مقصد کچرے کے انتظام کو بہتر بنانا، وسائل کے پائیدار استعمال کو فروغ دینا اور ضلعی و مقامی انتظامی سطح پر خصوصی ٹاسک فورسز کے قیام کے ذریعے ماحول دوست ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
حکومت نے جموں و کشمیر کمپریسڈ بائیو گیس توانائی پالیسی۲۰۲۶پر مؤثر عمل درآمد کے لیے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی سطح پر ایک بااختیار کمیٹی، ضلعی سطح کی کمیٹیاں اور ایک مخصوص کمپریسڈ بائیو گیس سیل قائم کرنے کو بھی منظوری دے دی ہے۔
اس انتظام کا مقصد پالیسی کے نفاذ میں تال میل پیدا کرنا اور خطے میں کمپریسڈ بائیو گیس کے شعبے کو فروغ دینا ہے۔
ادھر، جموں و کشمیر حکومت نے ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی بھی ازسرنو تشکیل کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں مستقبل کے تجارتی اور اقتصادی اقدامات کی رہنمائی کرنا اور تجارت کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









