سرینگر/؍۳۰؍اکتوبر
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ لداخ میں یو ٹی انتظامیہ کی شراب پالیسی کے خلاف خواتین کی تنظیموں نے اپنا احتجاج اس وقت معطل کردیا جب حکومت نے ان کے تمام مطالبات تسلیم کرنے پر اتفاق کیا اور معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی۔
لداخ میں گزشتہ ہفتے نئی شراب پالیسی کے خلاف خواتین کی قیادت میں احتجاج شروع ہوا تھا۔ مظاہرین نے پالیسی کو مکمل طور پر واپس لینے اور لداخ کو مکمل طور پر شراب سے پاک مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
وانگچک نے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا، ’’لداخ کی خواتین رہنماؤں نے شراب کے خلاف اپنا احتجاج معطل کردیا ہے۔ یو ٹی انتظامیہ نے ان کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ امید ہے کہ نظام پر ان کے اعتماد اور بھروسے کا احترام کیا جائے گا۔‘‘
جمعرات کو چار خواتین تنظیموں نے۲۹؍ اکتوبر سے۵ نومبر تک مجوزہ دھرنا یو ٹی انتظامیہ کی جانب سے تحریری یقین دہانی کے بعد معطل کردیا۔
یہ یقین دہانی محکمہ داخلہ کی جانب سے۲۹؍ اکتوبر کو جاری کردہ ایک خط کے ذریعے کرائی گئی، جس پر اسپیشل سیکریٹری تاشی ڈولما کے دستخط ہیں۔ خط میں خواتین تنظیموں کی جانب سے شراب پالیسی کے حوالے سے پیش کردہ تمام نکات اور سفارشات کو اصولی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
شراب پالیسی پر اعتراض کرنے والی تنظیموں میں لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن ویمن ونگ، انجمن امامیہ ویمن ونگ، انجمن معین الاسلام ویمن ونگ اور مسیحی برادری کی ویمن ونگ شامل ہیں۔
تنظیموں نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ یو ٹی انتظامیہ نے بات چیت اور باہمی تعاون کے جذبے کے تحت معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت طلب کیا ہے۔
بیان کے مطابق انتظامیہ کی درخواست کا احترام کرتے ہوئے خواتین تنظیموں نے عارضی طور پر دھرنا معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ انتظامیہ کو اپنے وعدے پورے کرنے اور طے شدہ نکات کو تحریری شکل دینے کا موقع مل سکے۔
تنظیموں نے واضح کیا کہ احتجاج کی معطلی کو انتظامیہ کی یقین دہانی پر ان کے اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران بھرپور حمایت کرنے پر لداخ کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔
یہ احتجاج شراب کی دستیابی میں اضافے، خصوصاً حال ہی میں بار لائسنسوں اور شراب کی دکانوں کے اجرا کے خلاف شروع کیا گیا تھا۔ خواتین تنظیمیں نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے، سماجی ڈھانچے کے تحفظ اور لداخ کی ثقافتی و روحانی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
تنظیموں نے صحت مند اور شراب کی لت سے پاک لداخ کے قیام کے لیے اپنے طویل مدتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









