نئی دہلی؍۳۰؍اکتوبر
سپریم کورٹ نے جمعہ کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی اس عرضی کو خارج کر دیا جس میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج ایک مقدمے میں ضمانت دیے جانے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
خرم پرویز جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر اور ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوالنٹری ڈس اپیئرنسز کے چیئرمین ہیں۔ انہیں این آئی اے نے۲۲ نومبر۲۰۲۱ کو گرفتار کیا تھا۔
این آئی اے نے الزام عائد کیا تھا کہ خرم پرویز انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی آڑ میں لشکر طیبہ کے ایک رکن کے ساتھ سازش کرکے پاکستان میں قائم اس دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کے لیے اوور گراؤنڈ ورکروں کا ایک نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ خرم پرویز نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے رواں سال۱۰جون کو انہیں اس مقدمے میں ضمانت دی تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی این آئی اے کی عرضی پر جمعہ کو جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسنّا بی ورالے پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔ بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے این آئی اے کی عرضی خارج کر دی۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات کا نوٹس لیا تھا کہ خرم پرویز اس مقدمے میں چار سال سے زیادہ عرصے سے حراست میں ہیں اور مقدمے کی جلد تکمیل کا امکان بھی نہیں ہے۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل۲۱ کے تحت انہیں حاصل بنیادی حقوق، یو اے پی اے کی متعلقہ دفعات کے تحت ضمانت پر عائد پابندیوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی مشاہدہ کیا تھا کہ ملزم۲۰۰۴ میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں اپنی ایک ٹانگ گنوا چکے ہیں اور جسمانی معذوری کے پیش نظر وہ خصوصی رعایت کے مستحق ہیں۔
اس سے قبل ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے دسمبر۲۰۲۴ کے اس حکم کو بھی کالعدم قرار دیا تھا جس میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔
این آئی اے کا الزام تھا کہ خرم پرویز لائن آف کنٹرول کے نزدیک فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت، سڑکوں کی حالت، فوجی کیمپوں، فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کے ڈھانچوں سے متعلق معلومات جمع کرنے میں سرگرم تھے۔
این آئی اے نے اپنی چارج شیٹ میں ان کے خلاف یو اے پی اے کی مختلف دفعات، جن میں غیر قانونی سرگرمیوں، سازش، دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے بھرتی، دہشت گرد تنظیم کی رکنیت اور اس کی حمایت سے متعلق دفعات شامل ہیں، کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ اس کے علاوہ انسداد بدعنوانی قانون اور انڈین پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
خرم پرویز کے وکیل نے ہائی کورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف محض بیانات کی بنیاد پر، بغیر کسی ٹھوس اور حتمی ثبوت کے، یو اے پی اے کے تحت بادی النظر میں مقدمہ نہیں بنتا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ فوجی ڈھانچوں اور دیگر متعلقہ امور سے متعلق معلومات۲۰۱۵میں ایک رپورٹ میں جمع کرکے شائع کی گئی تھیں، جو عوامی مفاد میں انسانی حقوق کی دستاویز بندی کا حصہ تھی۔ ان کے مطابق زیادہ تر معلومات حقِ اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)









