ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

ہائی کورٹ نے پن بجلی منصوبوں پر آبی محصول عائد کرنے کا قانون کالعدم قرار دے دیا

عدالت نے مطالباتی نوٹس منسوخ کرتے ہوئے بجلی کی پیداوار پر کسی بھی نوعیت کا ٹیکس عائد کرنے سے حکومت کو روک دیا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-31
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, کاروبار
A A
’۲۰۲۵تک پن بجلی صلاحیت کو بڑھا کر۱۱ہزار میگاواٹ کرنے کا ہدف ہے ‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر؍۳۰؍اکتوبر

            جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے جموں و کشمیر واٹر ریسورسز (ریگولیشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ۲۰۱۰کے تحت آبی استعمال کے محصول (واٹر یوزیج چارجز) عائد کرنے کے اقدام کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔

            جسٹس سنجے دھر اور جسٹس راج نیش اوسوال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متنازعہ قانون کی وہ شقیں، جن کے تحت درخواست گزاروں پر پانی کے استعمال کا محصول عائد کیا گیا، آئین کے منافی ہیں اور اس حد تک انہیں کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کے خلاف جاری کردہ مطالباتی نوٹس بھی منسوخ کر دیے اور حکومت کو ہدایت دی کہ پانی کے استعمال کے محصول یا کسی دوسرے ٹیکس کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر کوئی ٹیکس عائد نہ کیا جائے۔

متعلقہ

کابینہ توسیع کے بعد این سی میں بغاوت کے آثار

ایل جی سنہا کاکشمیر صوبے کی سلامتی صورتحال کا اعلیٰ سطحی جائزہ

            ڈویژن بنچ نے مشاہدہ کیا کہ جموں و کشمیر واٹر ریسورسز (ریگولیشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ۲۰۱۰ کی وہ شقیں، جو پن بجلی منصوبوں پر آبی استعمال کا محصول عائد کرنے کی اجازت دیتی ہیں، دراصل بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہیں۔ اس لیے سابقہ ریاستی مقننہ کو ایسا ٹیکس عائد کرنے کا آئینی اختیار حاصل نہیں تھا۔

            جموں و کشمیر حکومت نے۲۰۱۰میں یہ قانون منظور کیا تھا، جس کا مقصد نجی اور سرکاری اداروں سمیت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے پانی کے استعمال کے عوض محصول وصول کرکے آبی وسائل سے آمدنی حاصل کرنا تھا۔ اُس وقت کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس قانون کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، بشمول نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی)، سے سالانہ تقریباً۸۵۰ کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کرنے کا ہدف تھا۔

            تاہم، جموں و کشمیر میں پن بجلی کے آزادانہ منصوبوں پر کام کرنے والی۱۱ کمپنیوں نے۲۰۱۰ کے قانون کی مختلف شقوں کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ پن بجلی منصوبوں میں پانی کا استعمال غیر صرفی نوعیت کا ہوتا ہے، یعنی پانی استعمال کے بعد دوبارہ قدرتی بہاؤ میں شامل ہو جاتا ہے، اس لیے اس پر آبی استعمال کا محصول عائد نہیں کیا جا سکتا۔

            درخواست گزاروں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ واٹر ریسورسز ریگولیٹری اتھارٹی نے۲؍اپریل۲۰۱۹ کو بجلی کی پیداوار کے لیے آبی استعمال کا محصول مقرر کرتے وقت پن بجلی گھروں میں ٹربائن چلانے کے لیے پانی کے استعمال کی مقدار کے بجائے اس بلندی کو بنیاد بنایا تھا جہاں سے پانی ٹربائن تک پہنچایا جاتا ہے۔

            درخواست گزاروں نے عدالت میں دلیل دی کہ آئین کے تحت بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ریاستی مقننہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ ان کے مطابق، مرکزی حکومت کے مؤقف سے بھی واضح ہے کہ ریاستی حکومت پانی کے استعمال کے محصول وغیرہ کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد نہیں کر سکتی۔

            ڈویژن بنچ نے اسی بنیاد پر جموں و کشمیر حکومت کو پانی کے استعمال کے محصول یا کسی دوسرے ٹیکس کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے سے روک دیا۔

            درخواست گزاروں نے جموں و کشمیر حکومت کو رائلٹی کی صورت میں فراہم کی جانے والی۱۲ فیصد مفت بجلی کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ واضح طور پر درج کردہ واجبات کے علاوہ کوئی اضافی محصول، ٹیکس یا سیس عائد نہیں کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کی بنیاد پر کمپنیوں نے یہ جائز توقع قائم کی تھی کہ منصوبوں کی۴۰ سالہ مدت کے دوران ان پر پانی کے استعمال کے نام پر کوئی اضافی محصول عائد نہیں کیا جائے گا۔

            دوسری جانب جموں و کشمیر حکومت نے قانون کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت ریاستی حکومت کو بجلی کی پیداوار سمیت مختلف مقاصد کے لیے پانی ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے پر محصول عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

            حکومت نے کہا کہ متنازعہ قانون قومی آبی پالیسی کے مطابق ہے اور اس کا مقصد جموں و کشمیر کے عوام کے فائدے کے لیے آبی وسائل کا بہترین استعمال اور تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، آئین کے ساتویں شیڈول کی فہرست دوم کے اندراج۱۷ میں پانی اور آبی توانائی کے منصوبوں کا واضح ذکر ہے، اس لیے ریاست کو پانی کے ضابطے اور مختلف مقاصد کے لیے آبی محصول عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

            حکومت نے یہ دلیل بھی دی کہ پانی زمین سے حاصل ہوتا ہے یا اس سے منسلک ہے، اس لیے اسے زمین کی تعریف میں شامل کیا جا سکتا ہے اور فہرست دوم کے اندراج۴۹ کے تحت آبی استعمال کا محصول عائد کرنا جائز ہے۔ مزید کہا گیا کہ پانی معدنیات کی تعریف میں بھی آتا ہے، لہٰذا آئین کے ساتویں شیڈول کی فہرست دوم کے اندراج۵۰کے تحت بھی حکومت کو محصول عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

            انتظامیہ نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون مقننہ نے منظور کیا تھا، جبکہ درخواست گزاروں کو اگر کوئی یقین دہانی دی گئی تھی تو وہ انتظامیہ کی جانب سے تھی۔ اس لیے وہ کسی انتظامی یقین دہانی کی بنیاد پر قانون سازی کو چیلنج نہیں کر سکتے۔ حکومت نے یہ بھی دلیل دی کہ اگر آبی استعمال کے محصول کو بجلی کی پیداوار پر ٹیکس تصور کیا جائے تب بھی جموں و کشمیر تنظیمِ نو ایکٹ۲۰۱۹ کی منظوری کے وقت پارلیمنٹ نے اس قانون کو اختیار کیا تھا، لہٰذا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اسے پارلیمنٹ کی منظوری حاصل ہے، جسے بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

            دریں اثنا، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما وحید الرحمٰن پرہ نے جمعہ کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد جموں و کشمیر کو ایک ہزار کروڑ روپے کے ممکنہ مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا۔

            عدالتی فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پرہ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے۲۰۱۰سے جاری مطالباتی نوٹس منسوخ کر دیے ہیں، جس سے اس معاملے کو حکومت کی جانب سے نمٹانے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھتے ہیں۔

            قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پن بجلی منصوبوں پر آبی استعمال کا محصول عائد کرنا دراصل بجلی کی پیداوار پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے، جبکہ یہ سابقہ جموں و کشمیر مقننہ کے آئینی دائرہ اختیار سے باہر تھا۔ عدالت نے۲۰۱۰کے قانون کی متعلقہ شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے ان کے تحت جاری کردہ مطالباتی نوٹس بھی منسوخ کر دیے۔

            پلوامہ کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے تقریباً دو سال سے ایڈووکیٹ جنرل کی عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ محکمہ قانون وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہے اور اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی کہ آیا انتظامیہ جموں و کشمیر کے مفادات کے دفاع کے لیے قانونی طور پر پوری طرح تیار تھی۔

            پرہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں سوال اٹھایا، ’’اگر ہم اپنے مفادات کا دفاع اسی طرح کرتے ہیں تو ریاستی درجے کی بحالی کے مقدمے سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟‘‘

۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

۱۶۳کروڑ روپے کی لاگت سے دو نئے صنعتی اسٹیٹس قائم کرنے کو منظوری

Next Post

ایل جی سنہا کاکشمیر صوبے کی سلامتی صورتحال کا اعلیٰ سطحی جائزہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ  کی نئے وزراء سے ملاقات   نیک خواہشات کا اظہار
اہم ترین

کابینہ توسیع کے بعد این سی میں بغاوت کے آثار

2026-10-31
نوجوان جموںکشمیر کا سرمایہ‘ منشیات سے دور رہیں
اہم ترین

ایل جی سنہا کاکشمیر صوبے کی سلامتی صورتحال کا اعلیٰ سطحی جائزہ

2026-10-31
بغیر اجازت تعمیر ہونے والی سرکاری عمارتوں کو بجلی اور پانی کا کنکشن نہیں
اہم ترین

۱۶۳کروڑ روپے کی لاگت سے دو نئے صنعتی اسٹیٹس قائم کرنے کو منظوری

2026-10-31
کے ڈی اے کی کرگل میں آدھے دن کی ہڑتال کی کال‘لہیہ میں احتجاج
اہم ترین

لداخ میں شراب پالیسی کے خلاف خواتین کا احتجاج معطل

2026-10-31
سپریم کورٹ ہولی کے بعد حجاب تنازعہ کی سماعت کرے گی
اہم ترین

سپریم کورٹ نے خرم پرویز  کو ضمانت دینے کے فیصلے کیخلاف عرضی خارج کردی

2026-10-31
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

راجوری کے کوٹرنکہ میں گاڑی حادثے کا شکار  استاد جاں بحق، بیٹا شدید زخمی

2026-10-31
’چند افراد نے پوری کشمیری قوم کو بدنام کیا ‘
اہم ترین

’ہمارا قصور کیا ہے ‘؟: عام لوگوں کو جموں سرینگر شاہراہ پر روکنے پر وزیر صحت کا سوال

2026-10-31
اہم ترین

رن فار یونٹی‘ کے پیش نظر آج  بلیوارڈ روڈ پر ٹریفک پابندیاں

2026-10-31
Next Post
نوجوان جموںکشمیر کا سرمایہ‘ منشیات سے دور رہیں

ایل جی سنہا کاکشمیر صوبے کی سلامتی صورتحال کا اعلیٰ سطحی جائزہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.