جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا آبی وسائل (ضابطہ کاری اور انتظام) ایکٹ۲۰۱۰کے تحت پن بجلی منصوبوں پر پانی کے استعمال کے عوض عائد کیے جانے والے چارجز کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنا ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی معیشت، آبی وسائل پر اختیار اور بجلی کے شعبے سے وابستہ دیرینہ مسائل کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے واضح کیا ہے کہ ریاستی قانون سازیہ کو بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا اور پانی کے استعمال کے چارجز کی آڑ میں ایسا کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے نہ صرف اس قانون کی متعلقہ شقوں کو غیر آئینی قرار دیا بلکہ پن بجلی منصوبوں سے متعلق جاری کردہ مطالباتی نوٹس بھی منسوخ کر دیے۔ اس فیصلے سے حکومت کو حاصل ہونے والی ممکنہ آمدنی کا راستہ بند ہونے کے ساتھ ہی پن بجلی کے شعبے میں جموں و کشمیر کی مالی اور انتظامی پوزیشن پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سال۲۰۱۰ میں اس وقت کی حکومت نے آبی وسائل کے استعمال سے آمدنی حاصل کرنے کے مقصد سے یہ قانون نافذ کیا تھا۔ اس کے تحت نجی اور سرکاری اداروں کے علاوہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے بھی پانی کے استعمال کے عوض چارجز وصول کرنے کی تجویز تھی۔ اس وقت حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس قانون کے ذریعے سالانہ تقریباً۸۵۰ کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم گیارہ پن بجلی کمپنیوں نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پن بجلی منصوبوں میں پانی استعمال کے بعد دوبارہ دریاؤں میں واپس چلا جاتا ہے، اس لیے اسے عام معنوں میں پانی کا استعمال یا خرچ کرنا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کمپنیوں نے یہ دلیل بھی دی کہ پانی کے استعمال کی فیس بجلی کی پیداوار پر ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہے، جس کا اختیار ریاستی حکومت کو حاصل نہیں۔
عدالت نے اس قانونی تنازعے میں درخواست گزاروں کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کو پانی کے استعمال کے چارجز کی آڑ میں بجلی کی پیداوار پر کسی بھی قسم کا ٹیکس عائد کرنے سے روک دیا ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے اس فیصلے کو جموں و کشمیر کے لیے تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کا نقصان قرار دیتے ہوئے حکومت کی قانونی تیاری اور انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب گزشتہ دو برس سے ایڈووکیٹ جنرل کا عہدہ خالی رہا اور محکمہ قانون براہ راست وزیراعلیٰ کے ماتحت ہے تو پھر جموں و کشمیر کے مفادات کا مؤثر دفاع کیوں نہیں کیا جا سکا؟ اگرچہ اس فیصلے کے مالی اثرات کا حتمی اندازہ متعلقہ مطالبات اور قانونی کارروائیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا، تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت کو ایک اہم قانونی محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس معاملے کا ایک دوسرا اور زیادہ اہم پہلو نیشنل کانفرنس کے انتخابی وعدوں سے جڑا ہوا ہے۔ اسمبلی انتخابات۲۰۲۴ کے دوران پارٹی نے اپنے منشور میں بجلی اور پینے کے پانی سے متعلق عوام کو کئی یقین دہانیاں کرائی تھیں۔ ان میں۲۰۰ یونٹ مفت بجلی، نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) کے زیر انتظام پن بجلی منصوبوں کی جموں و کشمیر کو واپسی، بجلی کے بقایا جات کی یکمشت ادائیگی کا تصفیہ، صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں راحت، مفت پینے کا پانی اور دور دراز علاقوں میں پانی کی بہتر فراہمی جیسے وعدے شامل تھے۔ اس کے علاوہ این ایچ پی سی کے منصوبوں سے جموں و کشمیر کو ملنے والی مفت بجلی کا حصہ۱۰ فیصد سے بڑھا کر۴۰ فیصد کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
لیکن حکومت کے قیام کے دو سال بعد ان وعدوں پر عمل درآمد کی صورت حال زیادہ حوصلہ افزا دکھائی نہیں دیتی۔ یہ صورت حال اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ جموں و کشمیر کے پاس پن بجلی پیدا کرنے کی وسیع صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے دوسرے علاقوں سے بجلی خریدنا پڑتی ہے۔ یہاں کے دریاؤں اور آبی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی کا بڑا حصہ مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے بجائے بیرونی نظام کا حصہ بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک طرف بجلی کی قلت برقرار رہتی ہے اور دوسری طرف حکومت کو بجلی کی خریداری پر بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ ایسے میں پن بجلی منصوبوں کی واپسی یا ان سے پیدا ہونے والی بجلی میں جموں و کشمیر کا حصہ بڑھانا محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ خطے کی معاشی خود کفالت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
نیشنل کانفرنس نے انتخابات کے دوران عوام کو یہ امید دلائی تھی کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ ان معاملات پر سنجیدگی سے پیش رفت کرے گی۔ تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران اس سمت میں کوئی نمایاں کوشش دکھائی نہیں دی۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انتخابی منشور محض اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ عوام کے ساتھ ایک سیاسی اور اخلاقی عہد بھی ہوتا ہے۔ اس عہد کو پورا کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، خواہ اس کے لیے مرکز کے ساتھ طویل مذاکرات ہی کیوں نہ کرنے پڑیں۔
ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ نیشنل کانفرنس حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ضرور ہے، لیکن اسے محض ایک عدالتی ناکامی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو اولین فرصت میں اس فیصلے کا قانونی جائزہ لے کر، جہاں مناسب قانونی بنیاد موجود ہو، سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر کے آبی وسائل سے وابستہ مفادات کا دفاع آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے۔ محض پانی کے استعمال کے نام پر ایسے چارجز عائد کرنے کی کوشش کافی نہیں ہوگی جنہیں عدالت نے بجلی کی پیداوار پر غیر مجاز ٹیکس قرار دیا ہے۔ حکومت کو کوئی ایسا قانونی اور پائیدار راستہ تلاش کرنا ہوگا جس کے ذریعے مقامی وسائل سے خطے کو مناسب مالی فائدہ حاصل ہو سکے۔
اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ حکومت مرکز کے ساتھ پن بجلی منصوبوں کی واپسی کے معاملے پر باضابطہ اور نتیجہ خیز بات چیت شروع کرے۔ اگر موجودہ انتظامی اور قانونی ڈھانچے میں منصوبوں کی فوری واپسی ممکن نہیں تو کم از کم ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی بجلی میں جموں و کشمیر کا حصہ بڑھانے، نئے منصوبوں میں مقامی مفادات کو ترجیح دینے اور پہلے سے طے شدہ شرائط پر نظرثانی کے لیے کوششیں کی جانی چاہئیں۔ حکومت کو اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لینے کی بھی ضرورت ہے۔




