صنعاء، 6 اکتوبر (اسپوتنک/یو این آئی): یمن کی انصار اللہ تحریک، جسے عام طور پر حوثی تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے، نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جنوبی شہر ابہا سمیت متعدد اہم مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ ان کارروائیوں میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال کیے گئے۔
یحییٰ سریع کے مطابق حوثی افواج نے سعودی عرب کے خلاف تین بڑی فوجی کارروائیاں انجام دیں۔ پہلی کارروائی میں دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حملے کے نتیجے میں ہوائی اڈے پر فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔ تازہ رپورٹس میں بھی ریاض کے ہوائی اڈے پر فضائی سرگرمیوں میں خلل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم حملے سے ہونے والے مکمل نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
سریع نے کہا کہ دوسری کارروائی سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع رابغ میں سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ریفائنری کے خلاف کی گئی۔ ان کے مطابق حملہ براہ راست ہدف پر لگا اور تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے ریفائنری کو پہنچنے والے نقصان کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
حوثی ترجمان کے مطابق تیسری کارروائی جنوبی سعودی عرب کے عسیر خطے میں کی گئی، جس میں ابہا ایئرپورٹ، خمیس مشیط ایئر بیس اور عقیفہ کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نجران اور جازان میں بھی دیگر اہم اور حساس مقامات کو حملوں کا ہدف بنایا گیا۔
یحییٰ سریع نے ان حملوں کو سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی ٹھکانوں پر کی جانے والی کارروائیوں کا جواب قرار دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی افواج نے صنعا اور یمن کے الجوف، تعز، حجہ، صعدہ اور مارب صوبوں میں تقریباً 60 فضائی اور میزائل حملے کیے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کے جانی نقصان ہوا۔ حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک سعودی حملوں کی تعداد 1,576 تک پہنچ چکی ہے۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
حوثیوں نے سعودی فضائی حدود کے حوالے سے بھی سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ یحییٰ سریع نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس فضائی علاقوں کو چھوڑ کر سعودی عرب کی فضائی حدود کو ان کی فوجی کارروائیوں کے علاقے میں شامل سمجھا جائے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو بھی سعودی فضائی حدود میں پروازوں کے حوالے سے خبردار کیا۔
دوسری جانب سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے شہری، اقتصادی اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مملکت کے مختلف شہروں اور اہم تنصیبات کے خلاف مسلسل حملے کر رہے ہیں اور ریاض سمیت ابہا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی عرب نے اپنے شہریوں اور سرزمین کے دفاع کے حق پر بھی زور دیا ہے۔
حالیہ حملوں کا پس منظر یمن میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی سے جڑا ہوا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے خلاف نئی کارروائیاں شروع کی ہیں، بالخصوص بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب کے علاقوں میں۔ حالیہ پیش رفت نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ یمن کا تنازع ایک مرتبہ پھر وسیع علاقائی کشیدگی کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ شہری ہوابازی، تیل کی تنصیبات اور خطے کی اہم تجارتی گزرگاہوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ریاض اور دیگر سعودی شہروں میں ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعووں سے مسافر پروازوں اور فضائی راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔





