واشنگٹن، 3 اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اگر سیول نے مجوزہ الاسکا پائپ لائن منصوبے میں شرکت کے حوالے سے جلد فیصلہ نہ کیا تو وہ اس کی شرکت کی لاگت کو ’’دوگنا‘‘ کرسکتے ہیں۔ یہ بیان اس اطلاع کے بعد سامنے آیا کہ جنوبی کوریا اب بھی منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے۔
ٹرمپ نے ابتدا میں کہا کہ وہ جنوبی کوریا کے منصوبے میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میرین ون پر سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، جب ان سے پوچھا گیا کہ جنوبی کوریا نے ابھی تک منصوبے میں شرکت کی باضابطہ منظوری نہیں دی اور وہ تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تو ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے جلد بازی نہیں کی۔ میرا مطلب ہے کہ وہ وہاں موجود تھے اور ان کی نمائندگی بھی تھی، تو دیکھتے ہیں۔ اگر وہ یہ نہیں کرنا چاہتے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میں ان سے زیادہ رقم وصول کروں گا۔‘‘
اس کے بعد ٹرمپ نے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا، ’’رکیے، نہیں۔ رکیے، انہوں نے منظوری نہیں دی؟‘‘
صحافی کی جانب سے تصدیق کیے جانے کے بعد کہ جنوبی کوریا اب بھی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، ٹرمپ نے مزید سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا، ’’ان سے کہہ دیں کہ اگر انہوں نے جلد دستخط نہیں کیے تو میں اسے دوگنا کردوں گا، ٹھیک ہے؟‘‘
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس چیز کو دوگنا کرنے کی بات کر رہے تھے اور نہ ہی جنوبی کوریا کے فیصلے کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر کی۔
مجوزہ الاسکا پائپ لائن منصوبے کا مقصد الاسکا کے شمالی حصے میں واقع نارتھ سلوپ سے قدرتی گیس کو جنوبی الاسکا میں قائم مائع گیس بنانے والے پلانٹ تک پہنچانا ہے، جہاں گیس کو برآمد کے لیے پروسیس کیا جاسکے گا۔ ایشیائی ممالک کو ممکنہ منڈیوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہ توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
الاسکا ایل این جی منصوبہ 44.5 ارب سے 54.5 ارب ڈالر کی لاگت کا مجوزہ منصوبہ ہے، جس کے تحت ریاست کے انتہائی شمال میں واقع الاسکا نارتھ سلوپ سے قدرتی گیس پائپ لائن کے ذریعے پہلے ملکی صارفین اور بالآخر بیرون ملک خریداروں کے لیے برآمداتی ٹرمینل تک پہنچائی جائے گی۔







