بھوپال، 2 اکتوبر (یو این آئی) مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر انتظامی نظام، صحت خدمات، قبائلی بہبود اور قانون و انتظام کی صورت حال کو لے کر سوال اٹھاتے ہوئے مختلف واقعات میں جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے مدھیہ پردیش دورے کے تناظر میں مسٹر پٹواری نے بچوں کی اموات، مبینہ زہریلی شراب سے ہلاکتوں، آلودہ پانی، قبائلی علاقوں میں بدحالی اور ریاست پر بڑھتے قرض سمیت مختلف معاملات پر حکومت سے جواب طلب کیا۔
انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی اموات، مشتبہ زہریلی شراب سے لوگوں کی موت اور آلودہ پانی سے شہریوں کے متاثر ہونے جیسے واقعات حکومت کی جواب دہی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کو ان معاملات پر عوام کے سامنے واضح جواب دینا چاہیے۔
مسٹر پٹواری نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا بالاگھاٹ دورہ ان قبائلی خاندانوں کے دکھ درد کو سمجھنے کی کوشش تھا جنہوں نے اپنے بچے کھوئے ہیں۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں صحت، غذائیت، تعلیم اور روزگار کی صورت حال کا جائزہ لینے، ترقیاتی بجٹ کے استعمال میں شفافیت یقینی بنانے اور اخراجات کی مد وار تفصیلات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بالاگھاٹ دورے کے دوران ضلع کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کی مبینہ غیر حاضری کو بھی سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر افسران نے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کوتاہی کی ہے تو غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے جواب دہی طے کی جانی چاہیے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی اس معاملے کو متعلقہ فورمز پر اٹھائے گی اور ضرورت پڑنے پر افسران کے خلاف شکایت، اسمبلی میں مراعات شکنی کا نوٹس اور مرکزی حکومت و صدر جمہوریہ کو تحریری شکایت بھی بھیجے گی۔
مسٹر پٹواری نے چھندواڑہ میں مبینہ آلودہ کھانسی کی دوا سے بچوں کی اموات، ساگر میں مشتبہ زہریلی شراب سے ہلاکتوں اور اندور میں آلودہ پینے کے پانی کے معاملوں کا ذکر کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کی جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں غفلت یا ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ دار افسران اور عہدیداروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے ریاست کی مالی صورت حال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے قرض لینے، اس کے استعمال، سود کی ادائیگی اور مستقبل میں قرض کی واپسی کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایک ماہ میں تین مرتبہ قرض لینے اور ریاست کے مجموعی قرض کے تقریباً چار لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سرکاری اخراجات کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھایا۔
مسٹر پٹواری نے امت شاہ کے سامنے چھ سوالات رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور وزرا کے درمیان تال میل، چھندواڑہ میں بچوں کی اموات، ساگر میں مشتبہ زہریلی شراب سے ہلاکتیں، قبائلی علاقوں میں غذائی قلت اور بنیادی سہولیات کی کمی، اندور میں آلودہ پانی اور ریاست پر بڑھتے قرض کے بارے میں واضح جواب طلب کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام کو الزام تراشی نہیں بلکہ جواب دہ حکمرانی چاہیے۔ بچوں کی اموات، قبائلی علاقوں کے مسائل، مشتبہ زہریلی شراب، آلودہ پانی اور انتظامی غفلت جیسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور مقررہ مدت میں کارروائی ضروری ہے۔








