واشنگٹن/تہران، 2 اکتوبر (یو این آئی) امریکہ اور ایران جنگ کے سفارتی حل کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار اور کسی ممکنہ معاہدے کے مقاصد پر گہرے اختلافات کے باعث معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
گزشتہ 18 ماہ میں مذاکرات کے دو دور ناکام ہونے کے بعد دو جنگیں ہوچکی ہیں۔ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت بھی چند دنوں میں ناکام ہوگئی اور دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی۔ موجودہ سفارتی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں آنے والے ہفتوں میں ایک اور تنازع کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے مذاکراتی انداز میں نمایاں فرق بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ فوری معاہدے کے خواہاں ہیں، جبکہ ایران طویل اور مرحلہ وار مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے تاکہ وقت کو مذاکراتی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔
دونوں ممالک معاہدے کی نوعیت پر بھی مختلف موقف رکھتے ہیں۔ ٹرمپ ایسا جامع معاہدہ چاہتے ہیں جو امریکہ-ایران تعلقات اور پورے مغربی ایشیا پر اثرانداز ہو، جبکہ ایرانی حکام محدود دائرہ کار والے، بالواسطہ اور کم تشہیر کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، جسے تہران مستقل امن کے بجائے جنگ بندی کے قریب سمجھتا ہے۔
مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی عدم اعتماد ہے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران حملے کرکے وعدہ خلافی کی، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ جون کی مفاہمت کی خلاف ورزی ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملہ کرکے کی۔
امریکی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ایران کی طاقتور پاسداران انقلاب اور دیگر سخت گیر عناصر حکومت کے نسبتاً معتدل حلقوں کی جانب سے کیے گئے کسی معاہدے کی پابندی نہیں کریں گے۔
دونوں ممالک کی داخلی سیاست بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ایران میں سفارت کاری کے حامی حلقوں کو سخت گیر عناصر کی تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ٹرمپ کو امریکہ میں معاہدے کی مخالفت کرنے والے قدامت پسند حلقوں اور ایسے معاہدے پر بائیں بازو کی تنقید کا سامنا ہے جو جنگ سے پہلے کی صورت حال بحال کرے یا 2015 کے جوہری معاہدے جیسا دکھائی دے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے انٹرویو میں ایران کی موجودہ تجویز کو ’’کافی نہیں‘‘ قرار دیا اور کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران کے ساتھ کبھی امن قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو بھی برقرار رکھا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہٹے گا، تاہم امریکہ کو یہ خیال ترک کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
ایرانی پاسداران۔ انقلاب کے بعض عہدیدار اب بھی مذاکرات کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ میدان جنگ میں دباؤ بڑھا کر ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق ایران کا بنیادی مطالبہ خطے سے تمام امریکی فوجی دستوں کا انخلا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ طویل عرصے تک جنگی حالت برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔







