(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۳۰ ستمبر
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ کے رکن اسمبلی سجاد لون نے بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی میں معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کے سرٹیفکیٹس کے اجرا میں جموں اور کشمیر کے درمیان مبینہ نمایاں علاقائی تفاوت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غربت کی یکساں تعریف مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔
سجاد لون نے حکومت کے اپنے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک، شہری رسد اور امور صارفین کے ریکارڈ کے مطابق کشمیر میں تقریباً۳۷ لاکھ سے زائد اے اے وائی اور بی پی ایل ترجیحی گھرانوں کے راشن کارڈ موجود ہیں، جبکہ جموں میں یہ تعداد تقریباً۲۹ لاکھ ہے۔
تاہم ان کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران جموں میں تقریباً۲۴ ہزار ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جبکہ کشمیر میں یہ تعداد تقریباً۲۴۰۰ رہی۔ ان کے مطابق یہ تقسیم تقریباً۹۲ فیصد بمقابلہ۸ فیصد بنتی ہے۔
سجاد لون نے ایوان میں کہا، ’’فی کس صورتحال ایک جیسی ہے اور سماجی حالات بھی یکساں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دونوں خطے صدیوں سے مشترکہ تاریخ رکھتے ہیں۔انہوں نے ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ کے لیے اثاثوں سے متعلق معیار کو بنیادی مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سالانہ۸ لاکھ روپے سے کم آمدنی رکھنے والے شخص کو معاشی طور پر کمزور سمجھا جاسکتا ہے، لیکن ساڑھے تین مرلے زمین پر گھر کا مالک ہونا اسے ’’امیر‘‘ بنا دیتا ہے۔
لون نے کہا کہ جو شخص راشن کارڈ حاصل کرنے کے معیار کے تحت غریب تصور ہوتا ہے، وہی سرکاری ملازمت کے لیے درخواست دیتے وقت خوش حال سمجھا جاتا ہے۔
اسمبلی میں موصول ہونے والے سرکاری جوابات کا حوالہ دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً۷۵۰۰ بھرتیاں کی گئی ہیں، جن میں سے تقریباً۷۵۰ نشستیں ای ڈبلیو ایس زمرے کے تحت تھیں۔ان کے مطابق اگر راشن کارڈ کی بنیاد پر معیار مقرر کیا جاتا تو ان نشستوں میں سے۴۱۲ کشمیر اور۳۳۷ جموں کو ملتیں۔انہوں نے کہا کہ تقریباً۴۰ ہزار بھرتیاں ابھی زیر التوا ہیں اور ان میں سے تقریباً۴ ہزار نشستیں ای ڈبلیو ایس زمرے میں آسکتی ہیں۔
لون کے حساب کے مطابق موجودہ اثاثہ جاتی معیار کے تحت ان میں سے تقریباً۳۲۰ نشستیں کشمیر اور۳۶۸۰جموں کو ملیں گی، جبکہ اے اے وائی/بی پی ایل کی بنیاد پر معیار اختیار کرنے کی صورت میں تقریباً۲۲۰۰نشستیں کشمیر اور۱۸۰۰ جموں کے حصے میں آسکتی ہیں۔
پیپلز کانفرنس رہنما نے کہا کہ موجودہ ریزرویشن نظام پہلے ہی کشمیری نوجوانوں کے لیے روزگار کی منڈی میں مواقع محدود کر رہا ہے اور ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس میں مبینہ تفاوت اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے،‘‘ اور کسی بھی ماہر معاشیات یا ماہر اعداد و شمار کو اس تفاوت کی وضاحت کرنے کا چیلنج دیا۔
سجاد لون نے کیرالہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اے اے وائی اور بی پی ایل راشن کارڈ کی حیثیت کو ای ڈبلیو ایس کے معیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیرالہ کا متعلقہ فارم اسپیکر اور وزیر کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔
لون نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ یہ معاملہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے آئینی طور پر لازمی نہیں ہے۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل۱۶ کے تحت ریاستیں خاندانی آمدنی اور دیگر پیمانوں کی بنیاد پر معاشی طور پر کمزور طبقات کی نشاندہی کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے۲۰۱۹میں محکمہ برائے عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کے ذریعے مقرر کردہ تعریف مرکزی ملازمتوں کے لیے برقرار رکھی جاسکتی ہے، جبکہ جموں و کشمیر اپنے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے عہدوں کے لیے الگ معیار مقرر کرسکتا ہے۔
ہندواہ کے ممبر اسمبلی نے کہا، ’’ایک غریب شخص کے پاس ترجیحی گھرانے کا راشن کارڈ یا اے اے وائی کارڈ ہوتا ہے۔‘‘انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ روزگار اور خوراک و رسد دونوں کے لیے غربت کی ایک ہی تعریف اپنائی جائے۔انہوں نے کہا، ’’آپ دو تعریفیں نہیں رکھ سکتے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔










