جموں و کشمیر اسمبلی میں ارکانِ اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے متعلق دو بلوں کی واپسی نے ایک اہم سوال کو ایک بار پھر عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے کہ محدود مالی وسائل رکھنے والے خطے میں عوامی نمائندوں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں۔ یہ سوال ارکان اسمبلی کی تنخواہوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق حکمرانی کے مجموعی تصور، سرکاری اخراجات کی ترجیحات اور عوام کے اعتماد سے بھی ہے۔
29 ستمبر کو اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ان بلوں کی واپسی کی درخواست کی اور واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر تنخواہوں میں اضافے کے حق میں نہیں تھے۔ ان کے مطابق اگر ایوان میں اس معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہے تو حکومت ان بلوں کو آگے نہیں بڑھائے گی۔ اسمبلی نے بعد ازاں دونوں بل واپس لے لیے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ بل اچانک سامنے نہیں آئے تھے۔ وزراء اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں ترمیم سے متعلق تجاویز پہلے ایک کمیٹی کے ذریعے زیر غور لائی گئی تھیں اور وزیر اعلیٰ نے ایوان میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ کمیٹی کی سفارشات پر کسی رکن نے اختلافی نوٹ نہیں دیا تھا۔ دوسری جانب بی جے پی ارکان نے بل پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے کہا کہ توجہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور عارضی ملازمین کے مسائل حل کرنے پر ہونی چاہیے۔
کسی بھی جمہوری نظام میں عوامی نمائندوں کو مناسب تنخواہ اور مراعات ملنے کا اصول اپنی جگہ موجود ہے۔ ارکان اسمبلی اور وزراء بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں اور ان کے معاوضے کا ایک باقاعدہ قانونی نظام ہونا چاہیے۔ لیکن کسی بھی اضافے کا فیصلہ کرتے وقت معاشی حالات، سرکاری خزانے کی گنجائش اور عوامی ترجیحات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
جموں و کشمیر کی مالی صورتحال ایسی نہیں کہ سرکاری اخراجات کے ہر اضافے کو معمول کی کارروائی سمجھا جائے۔ حکومت کو تنخواہوں، پنشن، ترقیاتی اخراجات، بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور مختلف فلاحی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں عوامی نمائندوں کی تنخواہوں میں اضافہ اگرچہ مجموعی بجٹ کے اعتبار سے بہت بڑا مالی بوجھ نہ بھی ہو، پھر بھی اس کا ایک علامتی پہلو ضرور ہوتا ہے۔ عوام یہ دیکھتے ہیں کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں اور محدود وسائل میں سب سے پہلے کس طبقے کی ضروریات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
خاص طور پر اس وقت جب روزگار کا مسئلہ جموں و کشمیر کے سامنے ایک بڑے چیلنج کے طور پر موجود ہے، سرکاری ملازمتوں میں خالی آسامیوں، یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں، عارضی ملازمین اور مختلف محکموں میں برسوں سے زیر التوا مطالبات کا حل عوامی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی سرکاری محکموں میں ہزاروں خالی آسامیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایسے ماحول میں مالی ترجیحات پر سنجیدہ بحث ناگزیر ہے۔
یہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاملے کو محض سیاسی الزام تراشی تک محدود نہ رکھیں۔ 30 ستمبر کو اسمبلی کے آخری روز بھی تنخواہوں کے واپس لیے گئے بل پر نیشنل کانفرنس اور بی جے پی ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ایک جانب حکمراں جماعت کے رکن نے بی جے پی پر اس معاملے کو سیاسی بنانے کا الزام لگایا، جبکہ بی جے پی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ بل وزیر اعلیٰ نے خود واپس لیا ہے۔
عوامی مفاد کے معاملات میں ایسی کشیدگی سے اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے موجودہ مالی حالات میں عوامی نمائندوں کے معاوضے سے متعلق پالیسی کیا ہونی چاہیے اور اس پالیسی کا تعین کن اصولوں کی بنیاد پر کیا جائے۔ اگر مستقبل میں تنخواہوں یا مراعات میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو تو اس کے لیے واضح مالی جواز، شفاف طریقہ کار اور عوام کے سامنے مکمل تفصیلات پیش کی جانی چاہئیں۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ سابق ارکان اسمبلی کی پنشن سے متعلق ترمیمی بل کو ایوان نے منظور کر لیا۔ اس موقع پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ بل موجودہ ارکان کے بجائے ان سابق ارکان سے متعلق ہے جو ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بھی اس بل کو ایوان میں پیش کیا اور کہا کہ ایک دن ہم سب پنشنر ہوں گے۔ بعد ازاں بل صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
یہ فرق بھی عوامی بحث میں واضح رہنا چاہیے کہ موجودہ ارکان اور سابق ارکان کے مالی حقوق کے معاملات یکساں نوعیت کے نہیں ہوتے۔ ایک طرف موجودہ نمائندوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہے، جبکہ دوسری جانب سابق ارکان کے قانونی طور پر متعین پنشن کے حقوق کا معاملہ ہے۔ دونوں کو ایک ہی پیمانے سے دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔
جموں و کشمیر کے وسائل محدود ہیں اور معیشت کو کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ روزگار پیدا کرنا، نجی شعبے کو وسعت دینا، سیاحت اور باغبانی کو مضبوط بنانا، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنا اور نوجوانوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنا ایسے شعبے ہیں جہاں سرکاری وسائل کی مؤثر سرمایہ کاری طویل مدتی نتائج دے سکتی ہے۔ سرکاری خزانے سے ہونے والا ہر خرچ اسی وسیع تر ترجیحی فہرست کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں کا بوجھ، ترقیاتی اخراجات اور آمدنی کے ذرائع کے درمیان حقیقی توازن پر کھلی بحث ہو۔ اگر حکومت خود اس بات کی نشاندہی کرتی رہی ہے کہ آمدنی اور لازمی اخراجات کے درمیان گنجائش محدود ہے تو پھر تمام طبقات کے مالی مطالبات کو ایک جامع مالیاتی پالیسی کے تحت دیکھنا ہوگا۔ اس پالیسی میں عوامی نمائندوں کا معاوضہ بھی شامل ہو، سرکاری ملازمین کے مسائل بھی، پنشنرز کے حقوق بھی اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے مواقع بھی۔
آخرکار اس معاملے سے ایک وسیع تر سبق بھی سامنے آتا ہے۔ جمہوری حکومتوں کی ساکھ صرف بڑے ترقیاتی منصوبوں یا قانون سازی سے نہیں بنتی بلکہ اس بات سے بھی بنتی ہے کہ وہ مشکل حالات میں مالی ترجیحات کیسے طے کرتی ہیں۔ عوامی نمائندے معاشرے کے سامنے ایک مثال بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ہر فیصلہ قانونی اور مالی جواز کے ساتھ ساتھ عوامی احساسات اور معاشی حالات کو بھی مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے۔
تنخواہوں میں اضافے کے دونوں بلوں کی واپسی نے کم از کم یہ موقع فراہم کیا ہے کہ اس معاملے کو وقتی سیاسی تنازع کے بجائے وسیع تر مالیاتی بحث کے طور پر دیکھا جائے۔ جموں و کشمیر کو اس وقت ایسی حکمرانی کی ضرورت ہے جس میں ہر دستیاب روپیہ سوچ سمجھ کر خرچ ہو، ترجیحات واضح ہوں اور عوام کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ سرکاری وسائل کا استعمال ان کی بنیادی ضرورتوں اور مستقبل کے معاشی امکانات کو سامنے رکھ کر کیا جا رہا ہے۔ یہی اعتماد کسی بھی منتخب نظام کی اصل بنیاد ہے۔



