سرینگر؍۲۸سمبر
جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 میں جموں کے 10 اضلاع کو سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے کشمیر کے 10 اضلاع کے مقابلے میں زیادہ حصہ ملا ہے۔
مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے مجموعی طور پر 9,566.30 کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کی منظوری دی گئی، جس میں جموں ڈویژن کے لیے 5,102.25 کروڑ روپے جبکہ وادی کے لیے 4,464.05 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اب تک 5,837.91 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 3,292.93 کروڑ روپے جموں اور 2,544.98 کروڑ روپے کشمیر کے لیے جاری ہوئے ہیں۔
انڈئن ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں خطوں میں بالترتیب جموں اور سری نگر اضلاع کو سب سے زیادہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ جموں ضلع کے لیے 2,314.35 کروڑ روپے کی رقم سری نگر کے لیے مختص 1,486.88 کروڑ روپے سے تقریباً دو گنا ہے۔
جموں ڈویژن میں راجوری کو 419.14 کروڑ روپے کے ساتھ دوسری سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔ اس کے بعد پونچھ کو 400.08 کروڑ، کٹھوعہ کو 377.78 کروڑ، ادھم پور کو 361.95 کروڑ، ڈوڈہ کو 318.42 کروڑ، ریاسی کو 249.34 کروڑ، کشتواڑ کو 242.93 کروڑ، سانبہ کو 211 کروڑ اور رام بن کو 197.20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
درحقیقت صرف جموں ضلع ہی ڈویژن کے لیے متوقع سرمایہ جاتی اخراجات کی تقریباً نصف رقم کا حامل ہے۔
کشمیر میں اننت ناگ کو 697.05 کروڑ روپے کے ساتھ سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔ اس کے بعد بارہمولہ کو 468.93 کروڑ، پلوامہ کو 448.30 کروڑ، بڈگام کو 287.74 کروڑ، کپواڑہ کو 284.87 کروڑ، گاندربل کو 247.18 کروڑ، بانڈی پورہ کو 206.97 کروڑ، کولگام کو 184.24 کروڑ جبکہ شوپیاں کو وادی میں سب سے کم 151.84 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سیاسی اعتبار سے بھی یہ تقسیم کسی واضح سیاسی رجحان کے مطابق دکھائی نہیں دیتی۔ سب سے زیادہ سرمایہ جاتی اخراجات حاصل کرنے والے جموں ضلع کے 11 اسمبلی حلقوں میں سے 10 کی نمائندگی بی جے پی کے ارکان اسمبلی کر رہے ہیں، جبکہ ایک حلقے کی نمائندگی آزاد رکن اسمبلی ستیش شرما کر رہے ہیں، جو عمر عبداللہ حکومت میں وزیر بھی ہیں۔
سری نگر ضلع میں، جسے کشمیر ڈویژن میں سب سے زیادہ رقم مختص ہوئی ہے، آٹھ میں سے سات اسمبلی حلقوں کی نمائندگی حکمران نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی کر رہے ہیں جبکہ ایک حلقے کی نمائندگی کانگریس کے رکن اسمبلی کے پاس ہے۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ گاندربل ضلع کے دو اسمبلی حلقوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ گاندربل ضلع کے لیے 247.18 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
جموں، بالخصوص جموں، سانبہ اور کٹھوعہ کے میدانی اضلاع کے لیے وسائل کی تقسیم سے متعلق بی جے پی کے دعووں کے تناظر میں اعداد و شمار کے بارے میں پوچھے جانے پر بی جے پی کے ترجمان انکور شرما نے کہا کہ پارٹی کے پاس ضلع وار تقسیم کی تفصیلات موجود نہیں ہیں اور مجموعی اعداد و شمار کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کرنا چاہیے۔
شرما نے کہا، ’’کسی بھی بات کو کہنے سے پہلے بجٹ میں کی گئی ان رقوم کی ذیلی تقسیم کو دیکھنا ہوگا۔ جموں ڈویژن کے لیے مختص رقم زیادہ ہونے کی وجہ پن بجلی کے منصوبوں کے لیے مختص رقوم بھی ہو سکتی ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اصل معاملہ تفصیلات میں پوشیدہ ہے۔‘‘
بی جے پی کے ادھم پور ایسٹ کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے کہا کہ پارٹی کا موقف ہے کہ ترقیاتی فنڈز جموں اور کشمیر کے درمیان موازنے کے بجائے ترقیاتی ضروریات کی بنیاد پر مختص کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا، ’’جموں اور ادھم پور کے درمیان برابری نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جموں اور راجوری کے درمیان بھی برابری نہیں ہو سکتی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اور ترقیاتی ضروریات کے باعث جموں کو زیادہ سرمایہ کاری درکار ہے۔
پٹھانیا نے کہا، ’’ہم جموں اور کشمیر کے درمیان جنگ پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم صرف معیار پر مبنی تقسیم چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جموں کو اس کا حصہ ملے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر رتن لال گپتا نے بی جے پی پر ’’جموں کے لوگوں کو گمراہ کرنے‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حقائق اور اعداد و شمار ’’ایک مختلف کہانی‘‘ بیان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’جموں شہر کو بھی سری نگر کے مقابلے میں زیادہ فنڈز ملے ہیں۔ بی جے پی چاہے کچھ بھی کہے، حقیقت یہ ہے کہ عمر حکومت ترقی کی راہ پر سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہ ذات، برادری، مذہب یا خطے کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتی۔‘‘
ضلع وار اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف شعبوں کو ملنے والے فنڈز میں خاصا فرق ہے۔
جموں ضلع میں توانائی ترقیاتی محکمہ کے لیے 417.51 کروڑ روپے، ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کے لیے 359.58 کروڑ، محکمہ زراعت پیداوار کے لیے 279.94 کروڑ، محکمہ تعمیرات عامہ کے لیے 219.83 کروڑ اور حیوانات و بھیڑ پالن کے لیے 195.94 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں توانائی ترقیاتی محکمہ کے لیے 238.59 کروڑ روپے، صحت و طبی تعلیم کے لیے 224.57 کروڑ، زراعت پیداوار کے لیے 204.86 کروڑ، ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ کے لیے 152.04 کروڑ، حیوانات و بھیڑ پالن کے لیے 119.09 کروڑ اور صنعت و تجارت کے لیے 115.69 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دونوں ڈویژنوں کے دیگر اضلاع کے لیے بھی کی گئی تقسیم میں توانائی ترقیاتی اور تعمیرات عامہ کے محکموں کا حصہ نمایاں ہے۔اننت ناگ میں سیاحت بھی بڑے شعبوں میں شامل ہے، جس کے لیے 113.51 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










