(ایجنسیاں)
نئی دہلی؍۲۸ ستمبر
سپریم کورٹ نے پیر کے روز ذرائع ابلاغ، صحافیوں اور اشاعتی پلیٹ فارموں سے کہا کہ وہ جنسی جرائم کی رپورٹنگ کے دوران ذمہ دارانہ، ہمدردانہ اور محتاط صحافت کا مظاہرہ کریں۔
جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے کہا کہ سنسنی خیز سرخیاں، جنسی تشدد کی عریاں یا دلخراش تفصیلات اور غیر حساس الفاظ کا استعمال کسی عوامی مفاد کو پورا نہیں کرتا بلکہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو شدید ثانوی صدمے سے دوچار کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
اعلیٰ عدالت نے جنوبی دہلی کے آستھا کنج پارک میں۱۷ سالہ لڑکی کے مبینہ اجتماعی عصمت دری، دہلی کے سروپ نگر علاقے میں ایک کم عمر لڑکی کی مبینہ اجتماعی عصمت دری اور قتل، اور ایک چلتی ہوئی سلیپر بس میں نابالغ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال کے واقعات کا ازخود نوٹس لیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مبینہ طور پر اس بس کو گریٹر نوئیڈا سے دہلی تک۴۷ کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرنے کے باوجود روکنے میں ناکام رہے تھے۔
بنچ نے کہا، ’’اختتام سے قبل ہم یہ واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جنسی جرائم سے متعلق ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ ایک گہری آئینی اور اخلاقی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ ذرائع ابلاغ، صحافیوں اور اشاعتی پلیٹ فارموں کو ایسے معاملات میں ذمہ دارانہ، ہمدردانہ اور محتاط صحافت کے اپنے اہم فریضے کا پوری طرح احساس رہنا چاہیے۔‘‘
بنچ نے کہا، ’’سنسنی خیز سرخیاں، جنسی تشدد کی عریاں یا دلخراش تفصیلات اور غیر حساس زبان کسی عوامی مفاد کو پورا نہیں کرتیں اور متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو شدید ثانوی صدمے سے دوچار کرنے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ نے تمام مطبوعہ، برقی اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے اداروں کو بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ۷۲؍ اور پوکسو قانون کی دفعہ۲۳ کے تحت موجود سخت قانونی پابندی کی یاد دہانی کرائی، جن کے تحت جنسی زیادتی کے کسی بھی متاثرہ شخص یا نابالغ بچے کی شناخت براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ظاہر کرنے پر پابندی ہے۔
عدالت نے کہا، ’’سرخیوں اور رپورٹنگ میں سنسنی خیزی کے بجائے وقار، حقائق کی درستگی اور ادارہ جاتی جواب دہی کو ترجیح دی جانی چاہیے، تاکہ گفتگو کا مرکز انصاف اور تحفظ پر برقرار رہے۔‘‘
بنچ نے مزید کہا، ’’ضلع انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ میڈیا اداروں کے ساتھ فوری طور پر ایک اجلاس طلب کرے تاکہ اخبارات میں ایک مخصوص کالم اور برقی ذرائع ابلاغ میں ایک مخصوص وقت مختص کیا جا سکے، جس میں حفاظتی ذرائع اور ان ٹیلی فون نمبروں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں جن سے کسی خطرے کے محسوس ہونے کی صورت میں فوری مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘
اعلیٰ عدالت نے کہا کہ اسے یقین ہے کہ مطبوعہ اور برقی ذرائع ابلاغ اس موقع پر اپنی ذمہ داری پوری کریں گے اور بلا معاوضہ ایک مخصوص کالم یا وقت مختص کریں گے، جس میں ایسے خطرات کی صورت میں فوری مدد فراہم کرنے والے فون نمبرز بھی شامل ہوں گے۔
بنچ نے کہا، ’’ہم محترمہ لز میتھیو، معزز سینئر وکیل کو بطور امیکس کیوری مقرر کرتے ہیں تاکہ وہ اس عدالت کی اس اہم اور سنگین معاملے میں معاونت کریں۔ رجسٹری اس حکم کی ایک نقل، اس کے ساتھ منسلک اخباری تراشوں سمیت، جلد از جلد معزز امیکس کیوری کو فراہم کرے۔ رجسٹری معزز امیکس کیوری کو اس حکم کے بارے میں بھی جلد از جلد مطلع کرے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔










