جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قرارداد کی منظوری بلاشبہ ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے۔ قرارداد خود وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیش کی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے بغیر تقریباً تمام جماعتوں نے اس کی حمایت کی۔ بحث کے دوران ارکان اسمبلی نے۵؍ اگست۲۰۱۹ کے بعد جموں و کشمیر کی آئینی اور سیاسی حیثیت میں آنے والی تبدیلیوں، ریاستی درجے کے خاتمے اور عوام کے سیاسی اختیارات محدود ہونے پر اپنے خدشات اور احساسات کا اظہار کیا۔ اس بحث کا مجموعی تاثر یہی تھا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے ان کی وہ حیثیت چھین لی گئی جسے وہ اپنی سیاسی شناخت اور حقوق کا حصہ سمجھتے تھے۔
لیکن جس وقت اسمبلی میں ریاستی درجے کی بحالی کی قرارداد پر بحث ہو رہی تھی، تقریباً اسی عرصے میں جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر ایک ایسا الزام عائد کیا جسے معمول کی سیاسی بیان بازی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بخاری نے الزام لگایا کہ ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو سیدپورہ میں ہوٹل بنانے کے لیے زمین خریدنے کی اجازت دی گئی اور دہلی کی ایک کمپنی نے چھترگُل میں۱۵۰ کنال زمین حاصل کی، حالانکہ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے موجودہ باشندگی قوانین کے تحت ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔
یہ الزام اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے جموں و کشمیر میں زمین، باشندگی اور آبادی کے تناسب سے متعلق خدشات سیاسی اور عوامی بحث کا ایک حساس موضوع رہے ہیں۔۲۰۱۹کے بعد مرکزی قوانین اور انتظامی ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں نے جموں و کشمیر میں زمین کی ملکیت اور غیر مقامی افراد کی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک نئی صورتحال پیدا کی۔ اس پس منظر میں اگر کوئی منتخب حکومت کسی بیرونِ جموں و کشمیر فرد یا کمپنی کو ایسی زمین خریدنے یا حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہے جو موجودہ قوانین کے تحت جائز نہیں، تو اس معاملے کی شفاف وضاحت حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔
یہاں اصل سوال کسی سیاسی جماعت کے الزام کو فوراً درست یا غلط قرار دینا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حکومت اس الزام کا جواب کس طرح دیتی ہے۔ اگر بخاری کا دعویٰ غلط ہے تو حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ سیدپورہ میں زمین کی خریداری کا معاملہ کیا ہے، خریدار کون ہے، زمین کس نوعیت کی ہے، اس کی ملکیت اور استعمال سے متعلق قوانین کیا کہتے ہیں اور چھترگُل میں۱۵۰ کنال زمین کس قانون کے تحت حاصل کی گئی۔ اگر الزام میں کوئی حقیقت موجود ہے تو پھر حکومت کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اجازت کس سطح پر دی گئی، کس قانون یا ضابطے کے تحت دی گئی اور اس کے لیے کن شرائط کو پورا کیا گیا۔
جموں و کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ سیاسی بیانیہ بھی تبدیل ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے عوام سے بڑے سیاسی وعدے کیے تھے۔ ریاستی درجے کی بحالی ان وعدوں میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ اسمبلی میں اس حوالے سے قرارداد پیش کرکے حکومت نے کم از کم سیاسی سطح پر اپنا موقف واضح کیا ہے۔ لیکن ریاستی درجے اور آئینی حقوق کی بات صرف اسمبلی کی قراردادوں تک محدود نہیں رہ سکتی۔ عوامی حقوق کا تعلق زمین، روزگار، وسائل، سرمایہ کاری اور انتظامی فیصلوں سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کی ملکیت سے متعلق کسی بھی متنازع معاملے کی شفافیت ضروری ہے۔
الطاف بخاری نے اپنی تقریر میں حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ دو سال گزرنے کے باوجود انتخابی وعدوں میں سے کوئی اہم وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے پولیس ویریفکیشن، نوجوانوں کی گرفتاریوں، روزگار اور عوامی مشکلات جیسے مسائل کا بھی ذکر کیا۔ اپوزیشن کی طرف سے حکومت پر تنقید کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن ان الزامات میں سے جو معاملات دستاویزی اور قابلِ جانچ نوعیت کے ہیں، ان پر حکومت کو سیاسی جواب کے بجائے حقائق سامنے رکھنے چاہئیں۔
خاص طور پر زمین کے معاملے میں جذباتی سیاست سے زیادہ شفاف معلومات کی ضرورت ہے۔ جموں و کشمیر کی آبادی نے گزشتہ برسوں میں زمین اور شناخت کے سوال پر شدید سیاسی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ ایک طرف یہ دلیل دی جاتی رہی ہے کہ نئے قوانین نے جموں و کشمیر کو ملک کے دوسرے حصوں کے لیے سرمایہ کاری اور کاروبار کے اعتبار سے کھولا ہے، جبکہ دوسری طرف مقامی سطح پر یہ خدشات بھی موجود رہے ہیں کہ اس عمل سے مستقبل میں مقامی لوگوں کے زمین اور معاشی وسائل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی غیر مقامی فرد یا کمپنی کو زمین منتقل ہونے کی خبر خود بخود عوامی توجہ حاصل کرتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ بیرونِ جموں و کشمیر کسی فرد یا کمپنی کا یہاں کاروباری سرگرمی میں حصہ لینا بذاتِ خود غیر قانونی ثابت نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ متعلقہ قانون، زمین کی نوعیت، ملکیت کی شرائط، استعمال اور حکومت کی اجازت کے مطابق ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کسی زمین کی خریداری کو محض خریدار کے باہر سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ لیکن اگر کسی معاملے میں موجودہ قانونی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو اس کی ذمہ داری کا تعین ضرور ہونا چاہیے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کو سیاسی دفاعی انداز اختیار کرنے کے بجائے کھلے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تو حکومت کے پاس تمام متعلقہ ریکارڈ اور قانونی شقیں عوام کے سامنے رکھنے کا موقع ہے۔ اگر ضابطوں میں کوئی خاص رعایت دی گئی ہے تو اس کی بنیاد بتائی جانی چاہیے۔ اور اگر واقعی کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ خاموشی اس معاملے کو مزید مشکوک بنائے گی، خواہ الزام درست ہو یا غلط۔
عمر عبداللہ حکومت کے لیے الطاف بخاری کے الزامات ایک سیاسی چیلنج ضرور ہیں، لیکن اس سے زیادہ یہ انتظامی وضاحت کا موقع ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ الزام لگانے والے کے سیاسی پس منظر پر بحث کرنے کے بجائے سیدپورہ اور چترگُل کے دونوں معاملات کی مکمل تفصیلات سامنے لائے۔ زمین کس کی تھی، کس نے خریدی، کس مقصد کے لیے خریدی گئی، کس قانون کے تحت خریدی گئی اور متعلقہ حکام نے کیا اجازت دی—ان سوالات کے واضح جواب ہی عوام کے شکوک کو دور کرسکتے ہیں۔
جموں و کشمیر میں سیاسی اعتماد پہلے ہی ایک حساس مسئلہ ہے۔ ایسے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ زمین، آبادی اور شناخت جیسے معاملات کو محض سیاسی نعروں کا موضوع نہ بنایا جائے۔ اپوزیشن اگر سنگین الزام عائد کرتی ہے تو اسے قابلِ تصدیق شواہد کے ساتھ سامنے آنا چاہیے، جبکہ حکومت پر لازم ہے کہ وہ ایسے الزامات کا جواب ریکارڈ اور قانون کی روشنی میں دے۔



