واشنگٹن، 26 ستمبر (یو این آئی) ریپبلکن سینیٹروں نے چینی صدر شی جن پنگ کے واشنگٹن دورے کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے پرتکلف استقبال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ ردعمل ایران کے ساتھ چین کے مبینہ فوجی تعاون سے متعلق نئی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔
شی جن پنگ رواں ہفتے دو روزہ سربراہی اجلاس کے لیے واشنگٹن پہنچے، جہاں جوائنٹ بیس اینڈریوز پر باضابطہ استقبال، وائٹ ہاؤس میں سرکاری عشائیہ اور صدر ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات شامل تھے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران، تائیوان، تجارت اور مصنوعی ذہانت سمیت متعدد معاملات پر امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
چین اور ایران کے درمیان مبینہ فوجی تعاون کا معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا جب اطلاعات سامنے آئیں کہ جولائی میں اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے سے قبل ایرانی فورسز نے چینی اداروں سے اس اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی تھیں۔ اس حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے مبینہ تصاویر کی منتقلی کی اطلاع سب سے پہلے دی تھی۔
بیجنگ نے کسی بھی حکومتی مداخلت کی تردید کرتے ہوئے واشنگٹن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
جمعرات کو بند کمرے میں چین اور ایران کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے بارے میں بریفنگ حاصل کرنے والے ریپبلکن سینیٹروں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو شی جن پنگ کے ساتھ براہ راست یہ معاملہ اٹھانا چاہیے۔
الاسکا سے ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکاؤسکی نے شی جن پنگ کے استقبال میں کیے گئے فوجی اعزازات کو ضرورت سے زیادہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’سربراہی اجلاس طویل عرصے سے طے تھا۔ کیا ان کا استقبال کرنا مناسب ہے؟ جی ہاں۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی مناسب ہے کہ ان سے واقعی سخت سوالات کیے جائیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ذاتی طور پر مجھے 21 توپوں کی سلامی، سرخ قالین اور طیاروں کی پرواز کچھ زیادہ ہی لگی۔ میرے خیال میں ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘
ٹیکساس کے سینیٹر جان کورنن نے بھی استقبال کے پیمانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ سفارت کاری کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، لیکن شی جن پنگ کے ساتھ برتاؤ یا دسمبر میں میامی میں ہونے والی جی 20 سربراہی کانفرنس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کو مدعو کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے سے ’’پُرجوش‘‘ نہیں ہیں۔
کورنن نے کہا کہ یہ ’’بالکل واضح‘‘ ہے کہ چین، روس، ایران اور شمالی کوریا نے امریکہ کے خلاف ایک ’’محور‘‘ تشکیل دیا ہے۔ یہ ان کی اپنی تشریح ہے۔
یوٹاہ کے سینیٹر جان کرٹس نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران کے لیے چین کی مبینہ حمایت کے معاملے پر شی جن پنگ سے سخت سوال کرنا چاہیے اور واضح کرنا چاہیے کہ اس طرح کی معاونت کے نتائج ہو سکتے ہیں۔
نارتھ ڈکوٹا کے سینیٹر کیون کریمر نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات، بالخصوص ایران کے ساتھ چین کے مبینہ تعاون اور ایف-35 لڑاکا طیارے کے حساس پرزوں کے چین تک پہنچنے کے معاملے پر ٹرمپ کو بیجنگ کے ساتھ ’’بہت مضبوط‘‘ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔







