سری نگر؍۲۵ستمبر
پیپلز کانفرنس کے صدر‘ سجاد لون نے جمعہ کو جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد کی مخالفت کرنے پر بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور بھارت کے درمیان آئینی تعلق کو۱۹۴۷کے واقعات سے وابستہ وعدوں اور یقین دہانیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ہندوارہ سے رکن اسمبلی سجاد لون نے کہا کہ بی جے پی قرارداد کے خلاف محض ’شور مچا رہی ہے‘ کیونکہ اس کے پاس قرارداد کی مخالفت میں کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ان وعدوں اور آئینی انتظامات کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے جو۱۹۴۷ کے واقعات کے ساتھ وابستہ تھے۔
سجاد لون نے کہا، ’’جموں و کشمیر اور بھارت کے درمیان سیاسی اور آئینی تعلق کو۱۹۴۷کے واقعات سے وابستہ وعدوں اور یقین دہانیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جموں و کشمیر۱۹۴۷کے واقعات کی وجہ سے بھارت کا حصہ ہے۔۱۹۴۷میں ہم سے وعدے کیے گئے تھے۔ انہی وعدوں کی وجہ سے ہم آج یہاں ہیں۔‘‘
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی حکومت کی جانب سے کسی خیرات کا معاملہ نہیں ہے۔ انہوں نے ریاستی درجہ واپس لیے جانے کو ’’بہت برا اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ اقدام ’’ضد‘‘ اور ’’نفرت‘‘ کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔
سجاد لون نے کہا کہ الحاق کے بعد جو آئینی تعلق وجود میں آیا، اس میں وہ خود اختیاری کے انتظامات بھی شامل تھے جو۱۹۵۳ کے اہم موڑ سے پہلے اور اس کے بعد موجود رہے، اور بعد میں جو آئینی ڈھانچہ تشکیل پایا، اسے محض تاریخ کے ریکارڈ سے مٹایا نہیں جا سکتا۔
اٹانومی کے وسیع تر سوال کا حوالہ دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق معاملات، جن میں الحاق سے وابستہ وعدے اور اس کے بعد کیے گئے انتظامات شامل ہیں، اس سیاسی مفاہمت کا حصہ ہیں جس کے تحت ریاست اور بھارت کے درمیان تعلقات استوار ہوئے۔
پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے کہا، ’’بی جے پی کیا جانتی ہے؟ وہ تو کل پرسوں ہی آئی ہے۔ آپ کو۱۹۴۷کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔‘‘
ریاستی درجے کے معاملے پر عدالتی راستہ اختیار کرنے کے امکان، خصوصاً وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانونی راستے تلاش کرنے کے اشارے کے بارے میں پوچھے جانے پر سجاد لون نے کہا کہ فوری ترجیح اسمبلی میں ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کرانا ہے۔
سجاد نے کہا، ’’ہم قانونی راستے پر بعد میں غور کریں گے، پہلے ہماری توجہ یہاں قرارداد منظور کرانے پر ہونی چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔ (ویب ڈیسک)










