سری نگر؍۲۲ ستمبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز ’’سردار پٹیل اور کشمیر: ان کہی تاریخ‘‘ نامی کتاب کا اجرا کیا۔ انہوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی دور اندیشی اور قوم کی تعمیر کے غیر معمولی جذبے کو خراج عقیدت پیش کیا اور بھگوان شری سوامی نارائن جی کے تئیں اظہارِ تشکر کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے منی نگر شری سوامی نارائن گادی سنستھان کی روحانی بیداری، تعلیم اور انسانی خدمت کے شعبوں میں بے مثال خدمات کو سراہا۔ انہوں نے ڈاکٹر رضوان قادری کو بھی اس اہم کتاب کی تدوین اور اشاعت پر مبارکباد پیش کی۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے سردار پٹیل کو ’’جدید ہندوستان کا معمار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر متزلزل عزم اور عملی بصیرت نے۵۶۲ شاہی ریاستوں کو متحد ہندوستان میں ضم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سنہا نے کہا کہ سردار پٹیل کا تصور ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ آج بھی ہندوستان کی جمہوریت اور کثرت میں وحدت کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے معاملے پر سردار پٹیل کے مضبوط مؤقف کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ’’ہم جموں و کشمیر کی سرزمین کا ایک انچ بھی کسی کو نہیں دیں گے۔‘‘
ایل جی نے سردار پٹیل کی ملک کی نبض کو سمجھنے اور عام لوگوں، مزدوروں اور ہندوستان بھر کی مختلف برادریوں سے براہِ راست جڑنے کی صلاحیت کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا:’’اپنی غیر متزلزل قوتِ ارادی، واضح وژن، بے لوث محنت اور مضبوط تنظیمی صلاحیت کے ذریعے انہوں نے متحد ہندوستان کے خواب کو حقیقت بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ میرا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر جموں و کشمیر کی ذمہ داری سردار پٹیل کو سونپی گئی ہوتی تو شاید ان مسائل کا سامنا، جن سے یہاں کے لوگوں نے چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک تکلیف اٹھائی، پیدا نہ ہوتا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے تاریخ کا ایمانداری اور غیر جانب داری کے ساتھ ازسرنو جائزہ لینے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا۔
سنہا نے کہا کہ طویل عرصے تک تاریخی بیانیوں پر نظریاتی تعصبات کا اثر رہا، جس کے نتیجے میں سردار پٹیل جیسے رہنماؤں کی فیصلہ کن خدمات کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے نئی نسل کے مصنفین پر زور دیا کہ وہ تاریخ کو حقیقت کا آئینہ سمجھیں، نہ کہ کسی شخصیت کی مدح سرائی کا ذریعہ، اور ماضی کے فیصلوں سے سبق حاصل کرکے مستقبل کی سمت متعین کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اگست۲۰۱۹ میں دفعہ۳۷۰ ؍اور۳۵؍اے کی منسوخی کو سردار پٹیل کے ادھورے خواب کی تکمیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی تبدیلی محض ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ نفسیاتی اور جذباتی انضمام کی جانب ایک اہم قدم بھی تھا، جس کے ذریعے جموں و کشمیر میں تمام برادریوں کے لیے مساوی حقوق اور مواقع یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔
ایل جی نے کہا’’اگست۲۰۱۹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک نے ایک تاریخی آئینی تبدیلی دیکھی۔ نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار، کاروبار اور ترقی کے نئے امکانات کھلے۔
وزیر اعظم کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ جب قومی مفاد کو اولین ترجیح بنایا جائے تو کوئی رکاوٹ مستقل نہیں رہتی۔ یہی مضبوط قوتِ ارادی ہمیں۱۹۴۷ میں سردار پٹیل کی قومی تعمیر کی کوششوں میں نظر آتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ دفعہ۳و۷۰ کے دور کو تاریخ کا حصہ بنا کر جموں و کشمیر اب ایک نئے مستقبل کی دہلیز پر کھڑا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے مستقبل کے لیے چار ترجیحات بھی بیان کیں۔ ان میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے ذریعے امن کا قیام، بنیادی ڈھانچے اور رابطے کے ذرائع میں بہتری کے ذریعے تیز رفتار ترقی، نوجوانوں کو ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت اور اسٹارٹ اَپ ثقافت سے جوڑ کر انہیں بااختیار بنانا، اور سیاحت اور انسانی اقدار کو مضبوط بنانے کے لیے ثقافتی ورثے کی بحالی شامل ہیں۔
سنہا نے سری نگر، جموں اور مرکز کے زیر انتظام خطے کے دیگر شہروں کو تعلیم، تجارت اور اختراع کے فعال مراکز کے طور پر ترقی دینے کا وژن پیش کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس کتاب کو ایک ’’مشعلِ راہ‘‘ قرار دیا جو متحد اور پراعتماد ہندوستان کے لیے سردار پٹیل کے خواب کو روشن کرتی ہے۔
ایل جی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد، سالمیت اور حب الوطنی کے اصولوں کے لیے خود کو وقف کریں اور ایسا ہندوستان تعمیر کریں جو نہ صرف اقتصادی میدان میں دنیا کی قیادت کرے بلکہ اخلاقی قیادت، ثقافتی عظمت اور جمہوری اقدار میں بھی اپنا مقام بلند رکھے۔
کتاب کی تقریبِ اجرا میں آچاریہ شری جتیندریہ پریہ داس جی سوامی مہاراج، قومی کمیشن برائے درج فہرست ذاتوں کے چیئرپرسن کشور مکوانا، ڈاکٹر رضوان قادری، سوامی بھگوت پریہ داس جی، پرنسپل سیکریٹری محکمہ ثقافت برج موہن شرما کے علاوہ اعلیٰ حکام، ممتاز ادبی شخصیات اور منی نگر شری سوامی نارائن گادی سنستھان کے عہدیداران نے شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










