نئی دہلی؍۲۲ستمبر
وزارت خارجہ نے منگل کے روز پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف قابلِ اعتبار کارروائی کیے بغیر دنیا اس کے بیانات پر یقین نہیں کرسکتی۔
وزارت نے مستقل عدالتِ ثالثی سے متعلق حالیہ فیصلے کے بارے میں اسلام آباد کے دعووں کو بھی مسترد کردیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان پر حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے اور پروپیگنڈے کے لیے مبینہ طور پر غلط بیانی کرنے کا الزام عائد کیا۔
جیسوال نے کہا، ’’پاکستان کی عادت ہے کہ وہ اپنے مذموم پروپیگنڈے کے لیے حقائق کو غلط انداز میں پیش کرتا ہے اور غلط بیانی پھیلاتا ہے۔‘‘
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ جسے پاکستانی وزیر نے مستقل عدالتِ ثالثی کا فیصلہ قرار دیا ہے، وہ دراصل مستقل عدالتِ ثالثی کا فیصلہ نہیں ہے، جیسا کہ اسے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بلکہ ایک ایسے عدالتی فورم کا فیصلہ ہے جسے بھارت غیر قانونی طور پر تشکیل دیا گیا عدالت قرار دیتا ہے۔
جیسوال نے کہا، ’’ہم اسے پاکستان کی جانب سے حقیقت کو مسخ کرنے کی ایک اور کوشش سمجھتے ہیں۔‘‘
جیسوال سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ پاکستان نے مستقل عدالتِ ثالثی سے متعلق حالیہ فیصلوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط بھیجا ہے۔
ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں آئے ہیں جب پاکستان نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی گرفتاری یا سزا دلوانے والی معلومات فراہم کرنے پر انعام کی رقم میں اضافہ کیا ہے۔ بھارت نے گزشتہ ہفتے مسعود اظہر کے بارے میں پاکستان کی۷۰ لاکھ پاکستانی روپے کے انعام کے اعلان کو ’’کھوکھلی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسلام آباد سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستان میں قائم جیش محمد کو بھارت میں پارلیمنٹ پر۲۰۰۱ کے حملے، پٹھان کوٹ اور پلوامہ سمیت کئی بڑے دہشت گرد حملوں سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ تنظیم کے بانی مسعود اظہر کو بھارت انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیتا ہے۔
نئی دہلی مسلسل پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف قابلِ اعتبار اقدامات کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی عملی کارروائی ہی اس کے دعووں کی ساکھ کا اہم امتحان ہوگی۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کے بارے میں رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی ڈھاکہ کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا، ’’بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ مثبت، تعمیری اور مستقبل پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔‘‘
نیپال میں حالیہ سیلاب کے دوران لاپتہ ہونے والے بھارتی شہریوں کے بارے میں جیسوال نے بتایا کہ ایک بھارتی فرانزک ٹیم نیپالی حکام کے ساتھ مل کر لاپتہ افراد کی شناخت کے لیے کام کر رہی ہے۔
جیسوال نے کہا کہ۲۷۵ بھارتی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع پہلے دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ بھارتی نژاد افراد اور بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی برادری کے بعض دیگر افراد بھی لاپتہ ہیں۔
ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق بھارتی فرانزک ٹیم کھٹمنڈو کی مختلف تجربہ گاہوں میں اپنے نیپالی ہم منصبوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ٹیم اب تک۳۰۰۰ نمونوں پر کام کرچکی ہے اور۱۲۰۰ سے زائد ڈی این اے پروفائلز تیار کیے جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کام جاری ہے اور لاپتہ بھارتی شہریوں اور دیگر افراد کے بارے میں بھارتی حکام نیپال کی جانب سے مزید معلومات کے منتظر ہیں۔
یوکرین تنازع کے بارے میں جیسوال نے بتایا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کے روز یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا سے ملاقات کی اور تنازع میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے یوکرین تنازع میں حالیہ پیش رفت پر بات چیت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










