چلیے جی، اب تو آپ کو بھی اس بات پر یقین آ گیا ہوگا کہ ہم نے جو بات یقین سے کی تھی……. وہ یقینی تھی، اس کا ہونا یقینی تھا…….اور دیکھ لیجیے کہ ایسا ہی ہوا…….جموں و کشمیر اسمبلی میں ایسا ہی ہوا اور ہو رہا ہے۔ اللہ میاں کا شکر ہے کہ اس نے ہماری لاج رکھ لی، ورنہ صاحب، اپنا سا یہ منہ کسی کو نہیں دکھا پاتے۔ہمیں یقین ہے، اس بات پر یقین ہے کہ آپ اسمبلی کی کارروائی دیکھ کر محظوظ ہو رہے ہوں گے۔ پہلے دن تو کچھ زیادہ نہیں ہوا…….اور سب جلدی اپنے گھروں کو چلے گئے……. لیکن منگل کو سبھی اطمینان سے بیٹھے تھے اور اپنی باری کے منتظر تھے…….کچھ ایک اتاولے ضرور ہو رہے تھے، ان سے انتظار……. اپنی باری کا انتظار نہیں ہو پا رہا تھا، لیکن صاحب، مجموعی طور پر سبھی نے انتظار کیا اور اپنی باری پر اپنا رول، اپنا کردار نبھایا……. کچھ اس طرح کہ جیسے وہ کسی ڈرامے کی شوٹنگ کر رہے تھے۔اور سچ پوچھئے تو اسمبلی میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ کسی ڈرامے سے کم نہیں ہوتا…….جہاں ہر ایک اپنا مخصوص کردار نبھاتا ہے…….اپوزیشن کے ممبران حکمران جماعت کے ارکان پر چلاتے ہیں اور حکمران جماعت کے ممبران جواب میں اپوزیشن ارکان پر چیختے اور چلاتے ہیں……. اسی شور و غل میں کچھ ایسے کردار بھی کود پڑتے ہیں جو ادھر کے ہوتے ہیں اور نہ ادھر کے، اور وہ بھی زندہ باد، مردہ باد کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو ہی بیٹھتے ہیں۔سبھی اپنا اپنا کردار پہلے سے لکھے اسکرپٹ کے عین مطابق نبھاتے ہیں اور چلتے جاتے ہیں……. کچھ واک آؤٹ کے نام پر ایوان سے باہر چلے جاتے ہیں اور کچھ اپنی آرام دہ کرسیوں پر لوٹ آتے ہیں……. اسی طرح ان سب حضرات کا دن نکل جاتا ہے……. ایک ایک دن کے بعد ہفتہ اور دس دن نکل جائیں گے اور۔۔۔۔۔ پھر سبھی اپنے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے……. جہاں وہ اپنی اپنی پرفارمنس کا جائزہ لیں گے اور خود ہی اپنی پیٹھ بھی تھپتھپائیں گے…….اور ایسے میں آپ اور ہم سوچیں گے، یا سوچتے ہی رہیں گے، کہ اس دس روزہ سرکس میں ہمیں تفریح کے علاوہ کیا ملا……. کیا ملا؟جواب آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔




