سرینگر/۱۶ستمبر
قانون ساز اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے قبل پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے حالیہ جے کے اے ایس اور جموں و کشمیر اکاؤنٹس (گزٹیڈ) افسران کی تقرریوں کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس عمل کو کشمیر وادی کے خلاف ’’بھرتی کا امتیازی نظام‘‘ قرار دیا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں سجاد لون نے کہا کہ منتخب کیے گئے۵۵ جے کے اے ایس اور جموں و کشمیر اکاؤنٹس (گزٹیڈ) افسران میں سے صرف۱۰ کا تعلق کشمیر وادی سے ہے۔
لون نے کہا، ’’آبادی میں۵۶ فیصد تناسب کے مقابلے میں کشمیر کے باشندوں کو صرف۱۸ فیصد ملازمتیں ملی ہیں۔‘‘
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کو تقرری احکامات تقسیم کرنے سے خود کو الگ رکھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا، ’’اتفاق سے تقرری کے احکامات خود وزیرِ اعلیٰ صاحب نے دیے۔ اصولاً انہیں اس عمل سے دور رہنا چاہیے تھا۔‘‘
لون نے الزام عائد کیا کہ موجودہ ریزرویشن نظام وادی کے خلاف بھرتی میں امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ ان کے بقول، ’’یہ کشمیر وادی کے باشندوں کے خلاف ایک طرح کا تعاقب ہے، جس کا مقصد انہیں بااختیار ہونے سے روکنا اور حاشیے پر دھکیلنا ہے۔‘‘
پیپلز کانفرنس کے صدر نے مزید کہا کہ ریزرویشن کے حوالے سے کابینہ کی سفارش سے صورتِ حال میں کوئی نمایاں فرق نہیں پڑے گا۔
لون نے کہا، ’’اگر منتخب حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کو بھیجی گئی نام نہاد فائل منظور بھی ہوجاتی ہے تو کشمیر کے خطے کا۵۶ فیصد بمقابلہ۱۸ فیصد بھرتی کا یہ تناسب تبدیل نہیں ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ یہ۱۹فیصد تک پہنچے گا، جبکہ آبادی کا تناسب۵۶ فیصد ہے۔‘‘
پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے اعلان کیا کہ وہ مناسب قانونی و پارلیمانی طریقۂ کار کے ذریعے اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھائیں گے۔
لون نے کہا، ’’میری خواہش اور امید ہے کہ ہم جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر مل کر اس مسئلے کی شدت کو اجاگر کرسکیں گے اور معاملے کو اسی نام سے پکاریں گے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ واضح اور غیر مبہم انداز میں کہا جائے کہ موجودہ ریزرویشن نظام کشمیر وادی کے باشندوں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں مزید پیچھے دھکیلنے اور حاشیے پر رکھنے کا ایک طریقۂ کار ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









