نئی دہلی، 15 ستمبر (یو این آئی) ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے منگل کے روز کہا کہ کشاؤ کثیر المقاصد پروجیکٹ کے تعلق سے گزشتہ آٹھ سال سے جاری جمود ختم ہو گیا ہے اور اس پروجیکٹ سے ان کی ریاست کو سالانہ ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد آمدنی ہونے کے ساتھ ساتھ مالی بوجھ سے بھی راحت ملنے کی امید ہے۔
ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، اتر پردیش، دہلی اور راجستھان نے آج 422 میگاواٹ صلاحیت والے پروجیکٹ کے نفاذ کے لیے ایک معاہدے (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں ہوئے معاہدے کے تحت اتراکھنڈ-ہماچل سرحد پر ٹونس ندی پر 15,624 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے پروجیکٹ کی تعمیر ہوگی۔
سکھوندر سنگھ سکھو نے کہا کہ مرکز نے ہماچل کے بجلی کے حصے پر آنے والی تقریباً 2,000 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت کو پروجیکٹ کے پانی کے حصے سے مستفید ہونے والی ریاستوں دہلی، راجستھان اور ہریانہ کے ذریعہ برداشت کیے جانے پر اصولی طور پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے ہماچل کی جانب سے 800 کروڑ روپے کے حصے پر رضامندی ظاہر کی تھی، لیکن موجودہ حکومت نے اسے مسترد کر دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پروجیکٹ سے ہماچل کو ہر سال 1,000 ملین یونٹ بجلی ملے گی اور 1,000 کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدنی ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی اور ماحولیاتی اثرات کے باعث ہماچل کو ہونے والے نقصان کے پیش نظر ریاست کے مفادات کا تحفظ ضروری تھا۔





