نئی دہلی، 15 ستمبر (یو این آئی) دہلی کیابینہ نے کشاؤ کثیر المقاصد پروجیکٹ کے سلسلے میں ہوئے اہم معاہدے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیرِ جل شکتی سی آر پاٹل کا شکریہ ادا کیا ہے۔
وزیراعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا کی صدارت میں منگل کے روز منعقدہ کیابینہ کی میٹنگ میں اس پروجیکٹ کو سالہا سال سے التوا میں پڑے معاملے کا حل قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور متعلقہ ریاستوں کے تعاون کی تعریف کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاہدے سے دہلی کو 109.9 ملین کیوبک میٹر (ایم سی ایم) اضافی پانی مل سکے گا، جس سے دارالحکومت میں پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور یمنا میں ماحولیات کے لیے ضروری پانی کا بہاؤ بھی بہتر ہوگا۔
محترمہ گپتا نے کہا کہ پانی کی قلت دہلی کے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے اور کشاؤ پروجیکٹ کے آگے بڑھنے سے دارالحکومت کا آبی تحفظ مضبوط ہوگا نیز کم پانی والے وقت میں اضافی پانی دستیاب ہونے سے پینے کے پانی کی فراہمی کو استحکام ملے گا۔ انہوں نے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اتر پردیش، ہریانہ اور راجستھان کی حکومتوں کا بھی تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کشاؤ پروجیکٹ اپر یمنا بیسن کے اہم واٹر اسٹوریج پروجیکٹوں میں سے ایک ہے۔ ٹونس ندی پر بننے والے اس پروجیکٹ میں تقریباً 1,324 ایم سی ایم قابلِ استعمال واٹر اسٹوریج کی صلاحیت ہوگی۔ مانسون کے دوران دستیاب پانی کو ذخیرہ کر کے ضرورت کے مطابق کنٹرولڈ طریقے سے فراہم کیا جا سکے گا۔ اس سے دہلی کی مستقبل کی پانی کی ضروریات کو طویل مدتی بنیاد ملے گی نیز زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے اور واٹر کنزرویشن کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کشاؤ پروجیکٹ کی اہمیت صرف پینے کے پانی کی فراہمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ یمنا کی ماحولیاتی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔ وافر مقدار میں پانی کے بہاؤ سے ندی کو نئی زندگی دینے اور ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کو مضبوطی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ پینے کے پانی، آبپاشی اور ہائیڈرو پاور کی پیداوار کے ساتھ ساتھ یمنا میں ضروری پانی کا بہاؤ یقینی بنانے کے نقطہ نظر سے بھی اہم ہے۔ چھ ریاستوں کے درمیان بننے والی رضامندی سے سالہا سال سے التوا میں پڑے پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کا راستہ صاف ہوا ہے۔





