جموں و کشمیر وقف بورڈ ایک ایسا ادارہ ہے جس سے عوام کی توقعات محض مذہبی مقامات کی دیکھ بھال، زیارت گاہوں کی تزئین و آرائش یا انتظامی امور تک محدود نہیں ہیں۔ وقف کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ مذہبی اور فلاحی مقاصد کے لیے مخصوص وسائل سے معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کی جائے، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کو تقویت دی جائے اور ان اداروں کو مضبوط بنایا جائے جہاں سے عام آدمی کو حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔ ایسے میں جب وقف بورڈ کے وسائل، اس کی جائیدادوں اور اس سے وابستہ آمدنی کا ذکر ہوتا ہے تو ایک فطری سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس ادارے کی ترجیحات کیا ہیں اور ان ترجیحات کا تعین کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟
حالیہ دنوں میں خانقاہوں اور زیارت گاہوں میں تہری یا کھانا لانے اور تقسیم کرنے کے معاملے پر پیدا ہونے والی بحث نے اسی سوال کو پھر سے نمایاں کردیا ہے۔ وقف بورڈ کی سربراہ درخشاں اندرابی کے ایک بیان کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا کہ بعض زیارت گاہوں پر تہری اور کھانا لانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ بعد میں وضاحت کی گئی کہ ایسا کوئی عمومی فیصلہ نہیں کیا گیا اور بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ اس وضاحت کے باوجود اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر کسی مقدس مقام پر کھانے کی تقسیم کے طریقہ کار، نظم و ضبط یا انتظامی تقاضوں کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تو اسے انتظامی اصولوں کے تحت دیکھا جاسکتا ہے، لیکن کیا یہ واقعی وقف بورڈ کی ترجیح بننی چاہیے کہ وہ اس بات پر زیادہ توانائی صرف کرے کہ کسی زیارت گاہ پر تہری آئے گی یا نہیں؟
تہری تقسیم کرنا یا نہ کرنا، دستار بندی کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں، چادریں چڑھانے کا طریقہ کیا ہو، زائرین کے لیے کون سے انتظامات بہتر ہوں، یہ سب امور اپنی جگہ اہم ہوسکتے ہیں۔ مذہبی مقامات کی حرمت، صفائی اور نظم و نسق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ لیکن ایک وقف ادارے کی مجموعی کارکردگی کا پیمانہ صرف یہی امور نہیں ہوسکتے۔ عوام یہ جاننا چاہتی ہے کہ وقف بورڈ اپنی وسیع جائیدادوں اور آمدنی کو کس طرح عوامی فلاح کے لیے استعمال کر رہا ہے؟ کتنے نئے اسکول قائم ہوئے؟ کتنے موجودہ تعلیمی اداروں کو بہتر بنایا گیا؟ کتنے اسپتال، ڈسپنسریاں، نرسنگ مراکز یا طبی سہولیات قائم کی گئیں؟ غریب اور ضرورت مند مریضوں، طلبہ اور یتیم بچوں کے لیے کیا مستقل منصوبے شروع کیے گئے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب زیادہ اہم ہے۔
وقف بورڈ پہلے ہی بڑی تعداد میں اسکولوں اور اعلیٰ ثانوی اداروں کا انتظام کرتا ہے، لیکن فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان اداروں کو چلانے میں سالانہ تقریباً۱۲ کروڑ روپے کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اگر یہ صورتحال درست ہے تو پھر سب سے پہلی ترجیح نئے ادارے کھولنے سے پہلے موجودہ تعلیمی نظام کی اصلاح ہونی چاہیے۔ ایسا اسکول نظام جو مالی طور پر غیر مؤثر ہو، جس میں انتظامی اخراجات زیادہ ہوں اور جس سے مطلوبہ تعلیمی نتائج نہ مل رہے ہوں، اسے محض تعداد کی بنیاد پر کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔
دوسری طرف وقف املاک سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ایک اہم سوال ہے۔ اگر قیمتی دکانیں، کمرشل املاک اور دیگر جائیدادیں برسوں پرانے کرایوں پر دی گئی ہیں تو ظاہر ہے کہ ایک بڑا مالیاتی امکان ضائع ہو رہا ہوگا۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ وقف املاک سے حقیقی آمدنی کتنی ہے، کتنی رقم انتظامی اخراجات میں چلی جاتی ہے اور کتنی رقم عوامی فلاح کے لیے باقی رہتی ہے۔ اگر وقف کی جائیدادیں جدید تجارتی بنیادوں پر منظم طریقے سے لیز پر دی جائیں، کرایوں کا شفاف جائزہ لیا جائے اور آمدنی کے ذرائع کو منظم کیا جائے تو وقف بورڈ کے پاس صرف زیارت گاہوں کی تزئین نہیں بلکہ وسیع فلاحی منصوبے شروع کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ماضی میں وقف نظام پر سیاسی مداخلت، بدانتظامی، غیر شفاف تقرریوں، جائیدادوں پر قبضوں اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اگر آج کا وقف بورڈ ان مسائل کو ختم کرنے کے لیے اصلاحات کر رہا ہے، جائیدادوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل بنا رہا ہے، حساب کتاب بہتر کررہا ہے اور انتظامی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑ رہا ہے تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ لیکن اصلاحات اپنی جگہ ایک ذریعہ ہیں، منزل نہیں۔ ایک ادارہ اس وقت کامیاب سمجھا جاتا ہے جب اس کی اصلاحات کا فائدہ عوام کی زندگی میں نظر آئے۔
وقف بورڈ کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، کمپیوٹر نظام کی فراہمی، ریکارڈ مینجمنٹ اور شفافیت بڑھانے کے اقدامات یقیناً اہم ہیں۔ اس نوعیت کی ڈیجیٹل تبدیلی سے انتظامی بے ضابطگیوں کو کم کرنے اور مالی معاملات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن سوال پھر وہی ہے کہ اس بہتر نظام کا آخری فائدہ کس کو پہنچے گا؟ اگر نظام زیادہ شفاف ہوگیا، جائیدادوں کا ریکارڈ محفوظ ہوگیا اور آمدنی میں اضافہ ہوگیا، مگر تعلیم اور صحت کے میدان میں اس اضافی صلاحیت کا اثر نظر نہ آیا تو اصلاحات کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔
جموں و کشمیر میں تعلیم اور صحت دونوں ایسے شعبے ہیں جہاں بڑے خلا موجود ہیں۔ دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں معیاری طبی سہولیات کی کمی آج بھی ایک حقیقت ہے۔ سرکاری شعبے پر بوجھ بڑھ رہا ہے، نجی علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے اور اعلیٰ تعلیم کے اخراجات غریب خاندانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ ایسے میں اگر وقف بورڈ اپنی آمدنی کے ایک حصے کو اسکالرشپ، طبی مراکز، نرسنگ کالج، فنی تربیتی اداروں، زچہ و بچہ مراکز یا کم آمدنی والے مریضوں کے علاج کے لیے مختص کرے تو اس کا اثر براہ راست معاشرے کے بڑے حصے پر پڑ سکتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا وقف بورڈ کے پاس واقعی اتنی مالی گنجائش موجود ہے کہ وہ بڑے اسپتال یا یونیورسٹیاں قائم کرسکے؟ شاید فوری طور پر نہیں۔ لیکن یہی وجہ ہے کہ ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ بڑے منصوبے ایک دن میں نہیں بنتے۔ پہلے ایک جدید ڈسپنسری بن سکتی ہے، پھر ایک نرسنگ مرکز، اس کے بعد فنی تربیتی ادارہ، اسکالرشپ فنڈ یا کسی موجودہ تعلیمی ادارے کو ماڈل ادارے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں، سمت کا بھی ہے۔
اسی طرح وقف زمینوں پر تجاوزات اور سرکاری محکموں کے استعمال میں آنے والی املاک کا مسئلہ بھی حل طلب ہے۔ جب تک وقف کی زمینوں کا درست ریکارڈ، ملکیت کی حفاظت اور قانونی تحفظ یقینی نہیں بنایا جائے گا، کسی بھی طویل مدتی فلاحی منصوبے کی بنیاد کمزور رہے گی۔ بورڈ کو چاہیے کہ اپنی زمین اور املاک کے حوالے سے ایک واضح عوامی نقشہ اور سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ وقف کے پاس کیا ہے، اس سے کتنی آمدنی ہورہی ہے اور وہ کہاں خرچ ہورہی ہے۔
وقت آگیا ہے کہ وقف بورڈ اپنی ترجیحات کو عوام کے سامنے واضح کرے۔ اسے ایک ایسا جامع منصوبہ پیش کرنا چاہیے جس میں یہ بتایا جائے کہ اگلے پانچ برسوں میں تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی بہبود کے لیے کیا اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ کتنی رقم ان شعبوں کے لیے مختص ہوگی، کتنے منصوبے مکمل کیے جائیں گے اور ان کی نگرانی کیسے ہوگی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں شفافیت ہو اور ہر سال کارکردگی عوام کے سامنے رکھی جائے۔
تہری کہاں آئے گی، کون تقسیم کرے گا اور دستار بندی کس طرح ہوگی، ان معاملات پر بھی نظم و ضبط اور مذہبی حساسیت کے ساتھ فیصلے ہونے چاہئیں۔ لیکن وقف بورڈ کی اصل پہچان ان سوالات سے کہیں بڑی ہونی چاہیے۔




