باہمی ملاقات میں بھارت اور چین کے تعلقات میں ہونے والی مسلسل پیش رفت کا جائزہ لیا گیا:ترجمان وزارت خارجہ
نئی دہلی؍۱۲ستمبر
وزیر اعظم نریندر مودی نے برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دوطرفہ ملاقات میں کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور سکون دونوں ممالک کے تعلقات کی مسلسل ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
شی جن پنگ سات سال بعد پہلی بار بھارت کے دورے پر نئی دہلی پہنچے ہیں۔ بھارت میں برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کے دوران مودی اور چینی صدر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سرحدی مسائل، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے آغاز پر وزیر اعظم مودی نے چینی صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کو خوش آمدید کہنا میرے لیے باعث مسرت ہے۔ برکس سربراہ اجلاس میں آپ کے مثبت خیالات پر آپ کا شکریہ۔ بھارت کی برکس صدارت کے دوران چین کی جانب سے ملنے والی حمایت اور تعاون کے لیے بھی میں شکر گزار ہوں۔ اب ہمارے پاس دوطرفہ تعاون پر بات چیت کا موقع ہے۔‘‘
چینی صدر نے بتایا کہ انہیں بھارت کے دورے کی دعوت۱۵ جون کو ان کی سالگرہ کے موقع پر موصول ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران دونوں رہنماؤں کی۲۱ ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور ان ملاقاتوں میں اہم امور پر اتفاق رائے پیدا ہوا، جس سے چین اور بھارت کے تعلقات کو مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد ملی۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین ہمیشہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو طویل مدتی اور اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے حالات مختلف ہونے کے باوجود وہ ایک دوسرے کی خوبیوں سے سیکھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کی حمایت کرسکتے ہیں، مشترکہ کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور مشترکہ ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں صدی میں ایک بار آنے والی گہری تبدیلیوں اور غیر معمولی عالمی بحران کے دوران چین اور بھارت، جو دنیا کی دو سب سے زیادہ آبادی والی قومیں اور گلوبل ساؤتھ کے اہم ممالک ہیں، پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو انسانیت کے مستقبل اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑے ممالک کا کردار ادا کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا کی حمایت اور عالمی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے مزید مثبت کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات نتیجہ خیز رہی، جس میں تیانجن میں گزشتہ ملاقات کے بعد سے بھارت اور چین کے تعلقات میں ہونے والی مسلسل پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے سرحدی علاقوں میں امن اور سکون برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور باہمی احترام، باہمی مفاد اور باہمی حساسیت کی بنیاد پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اگست۲۰۲۵ میں تیانجن میں ہونے والی گزشتہ ملاقات کے بعد دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اختلافات کو تنازعات میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور دونوں ممالک کو ’’تین باہمی اصولوں‘‘ یعنی باہمی احترام، باہمی حساسیت اور باہمی مفاد کو رہنما اصول بنانا چاہیے۔
مودی نے دوطرفہ بات چیت میں زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور سکون دونوں ممالک کے تعلقات کی مسلسل ترقی کے لیے ضروری بنیاد ہیں۔ انہوں نے سرحدی معاملات سے متعلق موجودہ معاہدوں اور مفاہمتوں کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے وسیع تر دوطرفہ تعلقات اور دونوں ملکوں کے عوام کے طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحدی تنازع کے منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابل قبول حل کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
چین روایتی طور پر یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ سرحدی تنازع کو دوطرفہ تعلقات کے دیگر پہلوؤں سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات سے قبل دونوں حکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے گزشتہ ماہ کے آخر میں بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ خصوصی نمائندہ سطح کی بات چیت کی تھی، جس میں سرحدی حد بندی، سرحد پار تعاون اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر امن برقرار رکھنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اجیت ڈوول اور وانگ یی بھارت چین سرحدی مذاکرات کے لیے نامزد خصوصی نمائندے ہیں۔ یہ۲۰۳۳ نظام میں دونوں ممالک کے درمیان۳۴۸۸کلومیٹر طویل سرحدی تنازع کے حل کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں )









