جموں؍ ۱۲ستمبر
لشکر طیبہ کے بانی اور بھارت کے انتہائی مطلوب دہشت گرد حافظ سعید اس وقت پاکستان میں موجود ہے، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)نے جموں کی خصوصی عدالت کو یہ بتاتے ہوئے اس کے خلاف گزشتہ دو ماہ کے دوران دوسرا ناقابلِ ضمانت وارنٹ حاصل کرلیا ہے۔
این آئی اے نے خصوصی عدالت میں حافظ سعید کے خلاف بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ۷۵کے تحت ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں پنجاب، پاکستان کے سرگودھا کا رہائشی حافظ سعید کو ایک مقدمے میں مفرور ملزم قرار دیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ رواں سال کے آغاز میں سری نگر کے مضافات میں پانڈاچ کے مقام پر چیکنگ کے دوران محمد نقیب بھٹ کی گرفتاری سے متعلق ہے۔
بھٹ، جو بٹ پورہ کا رہائشی ہے، کے قبضے سے چین ساختہ ایک دستی بم اور۱۵ زندہ کارتوس برآمد ہوئے تھے۔
بھٹ کے خلاف زکوٰرہ پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیاں ، آرمز ایکٹ اور ایکسپلوسیو سبسٹنسز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
بعد ازاں تفتیش کے نتیجے میں ایک مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا، جس کے دوران لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ سے وابستہ متعدد دہشت گردوں اور دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔
این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کے ’امیر/چیف/بانی‘ کے طور پر حافظ سعید کا مبینہ کردار سامنے آیا، جبکہ گرفتار پاکستانی دہشت گردوں کے بھی اس سے وابستہ ہونے کے شواہد ملے۔
ایجنسی نے عدالت کو بتایا’’حافظ سعید پاکستان سے کام کررہا ہے اور کشمیر وادی میں سرگرم دہشت گردوں کو اسلحہ، رقوم اور ہدایات فراہم کررہا ہے۔ یہ معلومات سامنے آئی ہیں کہ مذکورہ دہشت گرد اس وقت پاکستان میں موجود ہے اور قانون کے شکنجے سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر گرفتاری سے گریز کررہا ہے‘‘۔
این آئی اے کے دلائل سننے کے بعد این آئی اے ایکٹ کے تحت خصوصی جج پریم ساگر نے۸ستمبر کو مشاہدہ کیا کہ تحقیقات کے دوران حافظ سعید کا مبینہ کردار سامنے آیا ہے اور وہ ’مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث‘ ہے۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ حافظ سعید مفرور ہے اور تفتیشی ایجنسی معمول کے طریقہ کار کے ذریعے اس کی عدالت میں حاضری یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی، جس کے بعد عدالت نے اس کے خلاف عام نوعیت کا ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کردیا۔
یہ جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے دو ماہ کے دوران حافظ سعید کے خلاف جاری کیا جانے والا دوسرا ناقابلِ ضمانت وارنٹ ہے۔
اس سے قبل۸ جولائی کو عدالت نے گزشتہ اپریل میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں حافظ سعید کے خلاف پہلا ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا تھا۔ اس حملے میں ۲۵سیاح اور ایک مقامی شہری ہلاک ہوئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










