لہیہ؍۱۲ ستمبر
لداخ کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ تھپستن چھیوانگ نے ہفتہ کو خطے کی سیاسی اور سماجی قیادت پر زور دیا کہ وہ مرکز کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھائے اور دوبارہ سڑکوں پر آنے سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ساتھ حالیہ بات چیت میں متعدد اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
چھیوانگ، جو ریاستی حیثیت اور آئین کے چھٹے شیڈول کو لداخ تک توسیع دینے سمیت مختلف مطالبات کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی قیادت کرتے رہے ہیں، گزشتہ سال جولائی میں لہہ ایپکس باڈی(ایل اے بی)کے چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ انہوں نے۹ ستمبر کو وزارت داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں شرکت کی تھی۔
مذاکرات کے فوراً بعدلہیہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس(کے ڈی اے) کی قیادت نے اجلاس کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے مرکز کے زیر انتظام خطے کے لیے مجوزہ منتخب ادارے سے متعلق طویل عرصے سے متوقع مسودہ پیش نہیں کیا۔
ماحولیاتی کارکن اور لہیہ ایپکس باڈی کے رکن سونم وانگچک نے کہا تھا کہ۲۲مئی کی میٹنگ کے بعد سے ’’کوئی خاص پیش رفت‘‘ نہیں ہوئی۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر منتخب جمہوری ادارے کے قیام سے قبل بڑے فیصلے کیے گئے تو لداخ کی تنظیمیں دوبارہ احتجاج شروع کرسکتی ہیں۔
لہیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چھیوانگ نے کہا کہ لہیہ ایپکس باڈی، کرگل ڈیموکریٹک الائنس اور وزارت داخلہ کے درمیان حالیہ اجلاس ’’نتیجہ خیز‘‘ رہا اور مرکز کے زیر انتظام خطے سے متعلق کئی اہم امور پر مثبت بات چیت ہوئی۔
انہوں نے اجلاس کے نتائج کو لہیہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے عوام کے سامنے پیش کیے جانے کے انداز پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں سامنے آنے والی متعدد مثبت پیش رفت اور اتفاق رائے کے نکات لوگوں کے سامنے نہیں لائے گئے۔
چھیوانگ کے مطابق مرکز اور لداخ کے نمائندوں نے یوٹی سطح پر ایک ممکنہ ادارہ جاتی نظام، اس کے اختیارات، تشکیل اور انتخابی طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ ادارے کو زمین، ثقافت، ماحولیات اور معدنی وسائل جیسے معاملات کے ساتھ ساتھ مالی اختیارات بھی دیے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نمائندگی کا معاملہ، جس میں لداخ کی قبائلی حیثیت کی عکاسی کرنے والی دفعات بھی شامل ہیں، مذاکرات کا حصہ رہا۔
چھیوانگ نے کہا کہ وہ عام طور پر ان معاملات پر عوامی سطح پر سامنے آنے سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم متعدد دور کی بات چیت کے بعد ہونے والی ’’مثبت پیش رفت‘‘ کے باعث انہیں اب اپنا مؤقف سامنے رکھنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ بھرتی اور آئینی تحفظات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، جبکہ متعدد امور پر اتفاق رائے پیدا ہوا، جن میں آئین کے آرٹیکل۳۷۱ کے تحت تحفظات کا مطالبہ بھی شامل ہے، جس پر۲۲ مئی کے اجلاس میں بھی بات ہوئی تھی۔
چھیوانگ نے کہا کہ ریاستی حیثیت اور چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبات وسیع تر سیاسی بحث کا حصہ برقرار رہے، تاہم بات چیت آگے بڑھنے کے ساتھ لداخ کے لیے عملی آئینی اور انتظامی تحفظات تلاش کرنے پر توجہ مرکوز ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ وزارت داخلہ اجلاس میں یوٹی سطح کے نمائندہ ادارے کا قیام اہم موضوعات میں شامل تھا۔
چھیوانگ کے مطابق لہیہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے براہ راست انتخابات کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور انتخابی نظام کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔انہوں نے لداخ کی قبائلی حیثیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہاں درج فہرست قبائل کی موجودگی کے پیش نظر مجوزہ نظام میں مناسب نمائندگی اور نامزدگی کی گنجائش ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق حلقہ بندیوں، مختلف علاقوں میں مساوی نمائندگی اور حقوق کو یقینی بنانے کے معاملے پر بھی بات ہوئی اور اجلاس میں شریک نمائندوں سے تجاویز طلب کی گئیں۔چھیوانگ نے کہا کہ مذاکرات اس مرحلے تک پہنچ چکے ہیں جہاں اس بات پر واضح سمجھ بوجھ موجود ہے کہ مجوزہ یوٹی سطح کے ادارے کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیش رفت میں تاخیر وزارت داخلہ کی جانب سے نہیں بلکہ مجوزہ اداروں کی ترتیب اور عمل درآمد کے حوالے سے لہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے درمیان اختلافات کے باعث ہوئی۔
سابق رکن پارلیمنٹ نے سونم وانگچک کی جانب سے دوبارہ احتجاج کی اپیل اور لداخ کے مطالبات پورے کرنے سے متعلق دی گئی مہلت پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وزارت داخلہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے پیش رفت ہوئی ہے تو ایک اور احتجاج کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لداخ پہلے ہی۲۴ ستمبر کے واقعے کے سنگین نتائج دیکھ چکا ہے اور کسی بھی ایسی پیش رفت سے خبردار کیا جو دوبارہ اسی نوعیت کی کشیدہ صورتحال پیدا کرسکتی ہو۔
چھیوانگ نے کہا کہ اگر وانگچک اور ایپکس باڈی پھر بھی احتجاج جاری رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں کرگل میں احتجاج کرنے پر غور کرنا چاہیے، جہاں بعض مطالبات کے حصول میں زیادہ دلچسپی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’لہہ نے برسوں تک جدوجہد دیکھی، جبکہ تحریک کے بعد ہونے والی پیش رفت سے کرگل کو فائدہ پہنچا۔‘‘
چھیوانگ نے لہہ ایپکس باڈی اور وانگچک سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور لداخ میں دوبارہ کشیدہ صورتحال پیدا کرنے والے کسی بھی اقدام سے گریز کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ وزارت داخلہ مذاکرات کو مذاکرات کے ذریعے حاصل ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اب توجہ مجوزہ یوٹی سطح کے ادارے کو حتمی شکل دینے، ضلعی کونسلوں کو مضبوط بنانے، آئینی تحفظات حاصل کرنے اور فوری طور پر محاذ آرائی کی طرف لوٹنے کے بجائے متفقہ ادارہ جاتی نظام کے ذریعے آگے بڑھنے پر ہونی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں)










