سری نگر؍۱۲ ستمبر
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتہ کو جموں و کشمیر میں۱۰مقامات پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔ یہ کارروائیاں کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے پاکستان میں موجود ہینڈلرز اور ان کے مبینہ مقامی اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کے ذریعے چلائی جانے والی سرحد پار دہشت گردی کی سازش کے سلسلے میں کی گئیں۔
این آئی اے کے ایک بیان کے مطابق، تلاشی کارروائیاں کپواڑہ، کولگام، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور سوپور میں مختلف مقامات پر کی گئیں۔ ان کا مقصد سازش سے متعلق مزید شواہد اکٹھا کرنا اور دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کو رسد اور دیگر معاونت فراہم کرنے والے افراد کے کردار کا تعین کرنا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ تلاشی کے دوران کیس سے متعلق قابل اعتراض مواد ضبط یا محفوظ کیا گیا، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اسے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے دیگر شواہد سے ملایا جا رہا ہے۔
این آئی اے کے مطابق تحقیقات کا آغاز۳۱ مارچ۲۰۲۶ کی شب ایک ناکہ پوائنٹ پر ایل ای ٹی سے وابستہ ایک او جی ڈبلیو کی گرفتاری کے بعد ہوا تھا۔ اس کے قبضے سے ایک ہینڈ گرینیڈ اور زندہ کارتوس برآمد کیے گئے تھے۔
بعد ازاں تحقیقات کے دوران سازش سے منسلک پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور مقامی معاونتی نیٹ ورک کے ارکان کی شناخت اور ان کے مبینہ کردار بھی سامنے آئے۔
تحقیقات سے اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں موجود ایل ای ٹی ہینڈلرز اور ان کے مقامی ساتھیوں کے درمیان روابط تھے۔ مقامی ساتھیوں کو دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ رابطے، ان کی نقل و حرکت اور روپوشی میں مدد، پناہ گاہوں کی فراہمی، ریکی اور دیگر لاجسٹک سہولت کاری کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
این آئی اے مالی لین دین، مواصلاتی ذرائع، ملزمان کی نقل و حرکت اور اسلحہ و دھماکا خیز مواد کے حصول اور سپلائی کے ذرائع کی بھی جانچ کر رہی ہے تاکہ پورے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے اور اس کی سرگرمیوں کے دائرہ کار کا تعین کیا جا سکے۔
ایجنسی نے کہا کہ آج کی تلاشی کارروائیاں سرحد پار دہشت گردی کو سہولت فراہم کرنے والے معاونتی نظام اور بڑی سازش کی جاری تحقیقات کا حصہ ہیں۔
این آئی اے نے کہا کہ سازش میں ملوث تمام افراد کی شناخت اور ہر ملزم کے کردار کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










