ہانگ کانگ، 10 ستمبر (یو این آئی) ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے ڈاؤ جونز کو ایک صحافی کو یونین کا عہدہ سنبھالنے سے روکنے کی کوشش کے الزام میں قصوروار قرار دیا ہے، تاہم عدالت نے صحافی کے یونین عہدے سے وابستگی کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیے جانے کے الزام میں پبلشر کو بری کر دیا۔ اس مقدمے نے شہر میں صحافتی آزادی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا تھا۔
سلینا چینگ کو جولائی 2024 میں وال اسٹریٹ جرنل (ڈبلیو ایس جے) نے ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ انہوں نے اخبار کے ناشر ڈاؤ جونز پر الزام عائد کیا تھا کہ ہانگ کانگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ایچ کے جے اے) کی چیئرپرسن کی حیثیت سے ان کے کردار کی وجہ سے ان کی ملازمت غیر قانونی طور پر ختم کی گئی اور انہیں یونین کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔
عدالت نے جمعرات کے روز ڈاؤ جونز کو چینگ کو یونین کی چیئرپرسن کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے حق سے روکنے کی کوشش کا مرتکب قرار دیا۔
تاہم جج نے ڈاؤ جونز کی اس دلیل کو تسلیم کیا کہ چینگ کو کمپنی کی تنظیم نو کے باعث ملازمت سے فارغ کیا گیا تھا، نہ کہ ہانگ کانگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن کے طور پر ان کے کردار کی وجہ سے۔
ہانگ کانگ کے محنت سے متعلق قوانین کے تحت ٹریڈ یونین میں حصہ لینے کا حق محفوظ ہے۔ ’’روکنے یا باز رکھنے‘‘ کے الزام میں قصوروار قرار پانے والے آجر پر ایک لاکھ ہانگ کانگ ڈالر (12,755 امریکی ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
فیصلے کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چینگ نے کہا، ’’اگر صحافیوں کے ملازمت سے متعلق حقوق کا مناسب تحفظ نہیں کیا جاتا، یا ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہونے کے باوجود قانون کے تحت ان کا نفاذ نہیں ہوتا، تو ہم بطور رپورٹر محفوظ طریقے سے کام نہیں کر سکتے۔‘‘
جج نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے چینگ کے لیے یونین کا عہدہ سنبھالنے سے قبل پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دینا ان کے حقوق کے استعمال کی ’’بلاجواز حوصلہ شکنی‘‘ تھی۔
ڈاؤ جونز نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہے اور آئندہ کے اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔
کمپنی کے ترجمان نے کہا، ’’وال اسٹریٹ جرنل کی ہانگ کانگ میں ایک آجر کی حیثیت سے طویل اور قابل فخر تاریخ ہے۔ اس پورے عرصے کے دوران ہم نے ہانگ کانگ کے محنت سے متعلق قوانین کا گہرا احترام کیا ہے اور اپنے ملازمین کے حقوق کی حمایت کی ہے، جبکہ خطے کے بارے میں بہترین اور غیر جانب دار صحافت شائع کی ہے۔‘‘
عدالت کی جانب سے سزا کا اعلان بعد کی تاریخ میں متوقع ہے۔
چینگ نے گزشتہ سال غیر قانونی برطرفی کے خلاف نجی استغاثہ دائر کیا تھا۔ اس سے قبل انہوں نے محکمہ محنت میں شکایت درج کرائی تھی، تاہم اس کے نتیجے میں کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔
1968 میں قائم ہونے والی ہانگ کانگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن شہر کی سب سے قدیم قائم رہنے والی صحافتی تنظیم اور میڈیا کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی آخری باقی ماندہ تنظیموں میں سے ایک ہے۔
اگرچہ ہانگ کانگ کو ایک زمانے میں آزاد ذرائع ابلاغ کے حوالے سے شہرت حاصل تھی، تاہم بین الاقوامی درجہ بندیوں اور ایچ کے جے اے کے جائزوں کے مطابق بیجنگ کی جانب سے 2020 میں قومی سلامتی کا قانون نافذ کیے جانے کے بعد میڈیا کی آزادی دباؤ کا شکار ہے اور متعدد میڈیا ادارے اپنا کام بند کرچکے ہیں۔ یہ قانون شہر میں ہونے والے بعض پرتشدد جمہوریت نواز مظاہروں کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔








