صنعا، 10 ستمبر (یو این آئی) یمن میں لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ ملک کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں پر توپ خانے سے حملہ کرکے تین بچوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے ایران نواز گروپ پر مملکت کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔
یہ دعوے بدھ کے روز اس وقت سامنے آئے جب حوثیوں نے سعودی عرب کی جانب سے 12 گھنٹوں کے دوران کیے گئے مبینہ 54 فضائی حملوں کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔
سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ پاکستان نے منگل کے روز خبردار کیا تھا کہ حوثیوں کے مسلسل حملے حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو فعال کر سکتے ہیں۔ اس معاہدے میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان شامل ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تازہ جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں جبکہ دسیوں ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا نے بدھ کے روز رپورٹ کیا کہ وسطی صوبہ مأرب میں حوثیوں کی گولہ باری میں کم از کم تین بچے، جن میں ایک شیر خوار بچہ بھی شامل ہے، ہلاک ہوئے۔ ایجنسی کے مطابق حملے میں مزید چھ افراد زخمی ہوئے۔ یہ 48 گھنٹوں کے دوران اس نوعیت کا دوسرا حملہ تھا۔
صبا کے مطابق پہلے حملے میں دو بچے ہلاک اور 15 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔
حوثیوں نے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم گروپ نے دعویٰ کیا کہ منگل کے روز شمالی صوبہ الجوف میں ایک جیل پر سعودی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 32 ہو گئی ہے۔ گروپ کے مطابق مزید سات افراد زخمی ہوئے۔
یمن 2014 سے تنازع میں گھرا ہوا ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد اگلے سال سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک تباہ کن جنگ شروع ہوئی اور اندازے کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں ہونے والی جنگ بندی سے بڑے پیمانے پر لڑائی رک گئی تھی، تاہم جولائی میں حکومتی فورسز کی جانب سے حوثیوں کے زیر قبضہ صنعا ایئرپورٹ پر حملے کے بعد جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئیں۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے حدیدہ اور تعز صوبوں میں ایک بڑا حملہ شروع کیا تھا، جس کا مقصد اہم بحری گزرگاہ باب المندب کی جانب پیش قدمی کرنا تھا۔ باب المندب سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
اس حملے کے جواب میں حکومت نواز فورسز نے جوابی کارروائیاں شروع کر دیں اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھا دیا، جن میں الجوف صوبہ بھی شامل ہے، جسے صنعا کی جانب جانے کا دروازہ تصور کیا جاتا ہے۔
لڑائی اب سعودی عرب تک بھی پھیل گئی ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بدھ کے روز کہا کہ حوثی مملکت کے اثاثوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے ’’جاری رکھے ہوئے‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق باغیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔انہوں نے حوثیوں کے ’’گھناؤنے حملوں‘‘ کے جواب میں کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
سعودی عرب کی سول ڈیفنس اتھارٹی نے بھی بدھ اور جمعرات کی علی الصبح خمیس مشیط اور ابہا کے لیے متعدد الرٹس جاری کیے۔ ان الرٹس کے سلسلے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا تھا کہ سعودی فورسز نے بدھ کے روز 12 گھنٹوں کے دوران چھ صوبوں میں 54 فضائی حملے کیے۔ ان میں الجوف، مأرب، تعز، حدیدہ، صعدہ اور البیضاء شامل ہیں۔








