پورٹسماؤتھ، 10 ستمبر (یواین آئی): پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم اس وقت غیر متوقع صورتحال سے دوچار ہوگئی جب برطانوی شہر پورٹسماؤتھ کے ایک ہوٹل میں اسے غلطی سے پناہ کے متلاشی افراد کا گروپ سمجھ لیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 افراد پر مشتمل پاکستانی ٹیم میریئٹ ہوٹل پہنچی تو بعض افراد نے اسے پناہ گزینوں کا گروپ سمجھ کر احتجاج شروع کردیا۔ مظاہرین ہوٹل کے باہر جمع ہوگئے جس سے کچھ دیر کے لیے صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
ریفارم پارٹی کے کونسلر جارج میڈوک نے ہوٹل سے رابطہ کرکے پاکستان انڈر 19 ٹیم کے کوچ سے بات کی۔ بعد ازاں انہوں نے مظاہرین کو بتایا کہ ہوٹل پہنچنے والے افراد پناہ گزین نہیں بلکہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ارکان ہیں، جس کے چند ہی منٹ بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔
میڈوک نے واقعے کو انتہائی بدقسمت قرار دیا۔ واقعے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ حکام سے رابطہ کیا ہے جبکہ ٹیم کے سیکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پاکستان انڈر 19 ٹیم نے 2 سے 5 ستمبر تک انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف چار روزہ میچ کھیلا تھا، جس میں اسے 10 رنز سے شکست ہوئی۔ تاہم 9 ستمبر کو کھیلے گئے یوتھ ون ڈے میں پاکستان نے 177 رنز سے کامیابی حاصل کی۔
رپورٹس کے مطابق منگل کی شام تقریباً 30 سے 40 افراد کوشام کے میریئٹ ہوٹل کے باہر جمع ہوئے۔ افواہ پھیلی تھی کہ مہاجرین کو لے جانے والی ایک بس وہاں پہنچی ہے۔ مظاہرین میں سے کچھ لوگ اس منزل تک بھی پہنچ گئے جہاں پاکستانی ٹیم کے ارکان قیام پذیر تھے اور کھلاڑیوں کے کمروں کے دروازے کھٹکھٹائے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ افسر سمیر سید نے بتایا کہ کھلاڑیوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور صورتحال کو مزید کشیدہ نہیں ہونے دیا۔ ہیمپشائر پولیس کے مطابق موقع پر پہنچنے والے اہلکاروں کو کسی جرم کے ارتکاب کا ثبوت نہیں ملا اور رات تقریباً 9 بجے تک مظاہرین منتشر ہوگئے۔
سمیر سید نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے رابطے میں ہیں، جس نے ٹیم کی سیکیورٹی کے لیے ہر ممکن اقدام کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورہ کرنے والی ٹیم کی حفاظت، سیکیورٹی اور فلاح و بہبود پوری کرکٹ برادری کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے باوجود پاکستان انڈر 19 ٹیم نے اگلے روز اپنا طے شدہ میچ کھیلا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اس نوعیت کا واقعہ دوبارہ پیش نہیں آئے گا۔





