نئی دہلی/۹ستمبر
دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) سے دریافت کیا کہ آیا دہشت گردی کی فنڈنگ کے ایک مقدمے میں جیل میں قید بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ شیخ عبدالرشید، المعروف انجینئر رشید کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے۔
جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل بنچ نے این آئی اے کے وکیل سے اس معاملے پر ہدایات حاصل کرنے کو کہا اور کیس کی سماعت۳ نومبر کے لیے مقرر کردی۔
بنچ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ رشید ایک بااثر شخصیت ہیں کیونکہ وہ اب رکن پارلیمنٹ بن چکے ہیں۔
عدالت نے این آئی اے سے کہا، ’’عدالت آپ کے سامنے یہ سوال رکھ رہی ہے کہ ان سے سب سے بڑا خطرہ ان کی کشمیر میں جسمانی موجودگی ہے، کیونکہ وہاں ان کا خاصا مقامی اثر و رسوخ ہے۔ فرض کریں کہ سخت شرط عائد کردی جائے کہ وہ صرف دہلی میں رہیں گے، تو آپ (این آئی اے) کا کیا جواب ہوگا؟ یعنی وہ دہلی میں رہائش اختیار کریں اور صرف وہیں رہیں۔‘‘
بنچ نے این آئی اے کے وکیل کو ہدایت دی کہ وہ اس بارے میں ہدایات حاصل کریں کہ آیا درخواست گزار رشید کو سخت شرائط کے تحت، بشمول دہلی سے باہر نہ جانے کی شرط کے ساتھ، ضمانت دی جاسکتی ہے۔
عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ رشید تقریباً سات برس سے حراست میں ہیں، جبکہ اس مقدمے میں مجموعی طور پر۲۴۰ گواہ ہیں اور مقدمے کی سماعت مکمل ہونے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔
ہائی کورٹ میں رشید کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت درج دہشت گردی کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر دلائل سنے جا رہے تھے۔
سماعت کے دوران این آئی اے کے وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کافی مواد موجود ہے جس سے بادی النظر میں رشید کے قصوروار ہونے کا پتہ چلتا ہے۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ رشید کے خلاف الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ ان پر مبینہ طور پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، پاکستان سے حاصل ہونے والی رقوم کے ذریعے پتھراؤ کرنے والوں کو مالی معاونت فراہم کرنے اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزامات ہیں۔
رشید کو اس سے قبل اپنے والد کے انتقال کے بعد منعقد ہونے والی رسومات میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت دی گئی تھی۔
رشید کو دہشت گردی کی فنڈنگ کے اس مقدمے میں ٹرائل کا سامنا ہے۔ ان پر جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد گروپوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
این آئی اے نے انہیں۲۰۱۷ کے دہشت گردی کی فنڈنگ کیس میں۲۰۱۹ میں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد سے وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔
اکتوبر۲۰۱۹ میں چارج شیٹ میں نام شامل کیے جانے کے بعد خصوصی این آئی اے عدالت نے مارچ۲۰۲۲ میں رشید اور دیگر ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت الزامات عائد کیے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں










