سرینگر/۷ستمبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جموں میں واقع سرکاری رہائش گاہ میں ایک۲۱ سالہ نوجوان کے مبینہ طور پر داخل ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جسے ایک اہم سکیورٹی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعہ دن کے اجالے میں پیش آیا، جبکہ اس وقت عمر عبداللہ نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کے لیے موجود تھے۔
انڈئن ایکسپریس کی ایک رورٹ مے مطابق عمر عبداللہ نئی دہلی میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی، منتخب حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان کام کاج سے متعلق قواعد کو حتمی شکل دینے اور ریزرویشن کے معاملات کو منطقی بنانے سمیت مختلف امور پر امت شاہ سے بات چیت کر رہے تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر داخل ہونے والا نوجوان منشیات کا عادی ہے اور اس کے کسی دہشت گرد تنظیم سے روابط نہیں پائے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق وہ کسی بدنیتی کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ میں داخل نہیں ہوا تھا۔ تاہم اس واقعے نے سکیورٹی انتظامات پر سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں۔
حکام کے مطابق ریاسی کا رہائشی مذکورہ نوجوان۳ ؍ ستمبر کو ایک دوست کے ہمراہ جموں آیا تھا۔ اسی شام گجر نگر پولیس چوکی کی ایک ٹیم نے اسے نشے کی حالت میں گھومتے ہوئے پایا۔
پولیس اسے چوکی لے گئی اور نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز (NDPS) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے اسی شام اس کے والدین کو طلب کیا، جنہوں نے دور دراز علاقے میں رہنے کی وجہ سے اگلی صبح آنے کی یقین دہانی کرائی۔ وہ۴ستمبر کو پولیس چوکی پہنچے۔
حکام کے مطابق متعلقہ جرم میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ سے ایک سال تک کی سزا ہے اور یہ قابل ضمانت جرم کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے پولیس نوجوان کو رہا کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔
تاہم پولیس انچارج نے نوجوان کے والد سے کہا کہ وہ کسی مقامی شخص کو بطور ضمانتی لے کر آئیں جو اس بات کی ضمانت دے کہ ضرورت پڑنے پر نوجوان پولیس چوکی میں حاضر ہوگا۔
والد جب ضمانت کے لیے کسی مقامی شخص کی تلاش میں گئے تو نوجوان پولیس چوکی سے نکل کر قریب واقع ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہاں سے پچھلی دیوار پھلانگ کر وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ میں داخل ہوگیا۔
ایس ایس جی اہلکاروں نے نوجوان کی نقل و حرکت کا فوری طور پر پتہ لگا لیا اور اسے حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران نوجوان نے بتایا کہ اسے خدشہ تھا کہ اس کا والد واپس نہیں آئے گا، اسی خوف کے باعث وہ پولیس چوکی سے نکل گیا تھا۔
حکام کے مطابق نوجوان کے خلاف غیر قانونی داخلے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا، جس کے بعد اسے ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
یہ واقعہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ حکمران نیشنل کانفرنس کے رہنما طویل عرصے سے عمر عبداللہ اور ان کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سکیورٹی میں مبینہ کوتاہی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ این سی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاست سے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں درجہ کم کیے جانے کے بعد سے صورتحال مزید تشویشناک ہوئی ہے، جہاں امن و قانون کی ذمہ داری لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے پاس ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ، جنہیں زیڈ پلس سکیورٹی حاصل ہے،۱۱ مارچ کو جموں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران قاتلانہ حملے کی کوشش میں بال بال بچے تھے۔ جموں کے پرانی منڈی علاقے سے تعلق رکھنے والے۶۱ سالہ شخص نے لائسنس یافتہ ریوالور سے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ ناکام رہا۔
۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










