سرینگر/۷ستمبر
جموں و کشمیر کے۱۰ سرکاری میڈیکل کالجوں اور دو ڈینٹل کالجوں سے وابستہ طبی انٹرنز نے ماہانہ وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر جاری اپنی سات روزہ ہڑتال کے دوران پیر کو۴۸ گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع کردی۔ یہ قدم حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد اٹھایا گیا۔
احتجاج کرنے والے ایک طبی انٹرن ڈاکٹر فراز نے کہا کہ ان کی ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی اور اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں باقاعدہ تحریری حکم جاری نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔ یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ہمیں سرکاری حکم نامہ نہیں مل جاتا۔ لیکن ہڑتال شروع ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اگر حکومت کسی معاملے کو سنجیدگی سے لیتی ہے تو حکم نامہ جاری کرنے میں اتنا وقت نہیں لگنا چاہئے۔‘‘
ڈاکٹر فراز نے کہا کہ انٹرنز کو حکومت پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کے لیے بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کسی نے انہیں مجبور نہیں کیا۔ ہر کالج سے دو سے تین طلبہ خود آگے آئے ہیں اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔‘‘
احتجاج کرنے والے انٹرنز کا کہنا ہے کہ حکومت مسلسل مزید وقت مانگ رہی ہے، جبکہ وہ گزشتہ تین برس سے اس معاملے پر حکومت کو وقت دیتے آرہے ہیں۔
ڈاکٹر فراز نے کہا، ’’یہ سفارش۲۰۲۳ میں ہی کی گئی تھی۔ اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ حکومت نے اس معاملے کو ہڑتال شروع ہونے کے بعد ہی سنجیدگی سے لینا شروع کیا، تب بھی آٹھ دن گزر چکے ہیں اور ابھی تک کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اگر حکومت یہ کہہ کر زبانی یقین دہانیاں کراتی رہی کہ ’ہم ایک دو ماہ میں اس معاملے کو دیکھیں گے‘ تو اب انٹرنز ان یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں ہوں گے۔‘‘
انہوں نے کالج انتظامیہ پر انٹرنز کو ’’ڈرانے دھمکانے اور خوف زدہ کرنے‘‘ کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
ڈاکٹر فراز نے کہا، ’’یہ ناقابل قبول ہے۔ ہم اپنے جائز حقوق کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔ اگر کالج انتظامیہ ہمیں خاموش کرانے کے لیے غیر منصفانہ طریقے اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ہم خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ ہم نے گزشتہ روز بھی انہیں مناسب جواب دیا ہے۔‘‘
ایک اور طبی انٹرن ڈاکٹر مشرف نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اگرچہ کچھ مثبت پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی حل سامنے نہیں آیا۔انہوں نے کہا، ’’حکومت کے ساتھ ہماری آئندہ بات چیت جاری رہے گی اور آگے بڑھے گی، اس لیے ہم یہ نہیں کہیں گے کہ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر مشرف نے کہا، ’’فی الحال ہم۴۸ گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع کررہے ہیں اور اس کے بعد حالات میں ہونے والی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘
اس سے پہلے ایس کے آئی ایم ایس میڈیکل کالج بمنہ میں ایم بی بی ایس۲۰۲۱ بیچ کے انٹرن ڈاکٹروں نے اپنے انٹرن شپ وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر پیر سے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتظامیہ سے باضابطہ تحریری حکم نامہ جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جاری احتجاج میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔
احتجاج کرنے والے انٹرن ڈاکٹروں کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ انتظامیہ کے ساتھ جاری بات چیت کے باوجود ان کے مطالبات کے حوالے سے کسی تحریری اور باضابطہ حکم نامے تک معاملہ نہ پہنچنے کے بعد کیا گیا ہے۔
انٹرن ڈاکٹروں نے کہا کہ وظیفے میں اضافے کے حوالے سے انتظامیہ کے ساتھ متعدد مرتبہ بات چیت اور یقین دہانیاں ہوچکی ہیں، تاہم اس سلسلے میں ابھی تک کوئی سرکاری حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث انہیں احتجاج میں شدت لانے پر مجبور ہونا پڑا۔
احتجاجی انٹرن ڈاکٹروں نے کہا، ’’ہمارا موقف واضح ہے: تحریری حکم نامہ نہیں تو احتجاج ختم نہیں ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بھوک ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات کو پورا کرنے والا باضابطہ حکم نامہ جاری نہیں کیا جاتا اور اس عمل کو تیز نہیں کیا جاتا۔
احتجاج کرنے والے انٹرن ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کا مطالبہ انصاف، وقار اور انٹرن ڈاکٹروں کی جانب سے انجام دی جانے والی ذمہ داریوں اور کام کے عوض مناسب معاوضے سے متعلق ہے۔
انہوں نے انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحریری اور سرکاری حکم نامے کے ذریعے تعطل ختم کریں۔
یہ بھوک ہڑتال جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرن ڈاکٹروں کی جانب سے ماہانہ انٹرن شپ وظیفہ بڑھا کر۳۰ ہزار روپے کرنے کے مطالبے پر جاری وسیع تر احتجاج میں مزید شدت کی علامت ہے۔
انٹرن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زبانی یقین دہانیاں اب کافی نہیں ہیں اور حکومت کی جانب سے باضابطہ حکم نامہ جاری ہونے تک ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔
احتجاجی انٹرن ڈاکٹروں نے کہا، ’’ہم بات چیت چاہتے ہیں، ہم انصاف چاہتے ہیں، ہم تحریری حکم نامہ چاہتے ہیں۔‘‘
ایس کے آئی ایم ایس بمنہ کے احتجاجی انٹرن ڈاکٹروں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ بھوک ہڑتال کا مقصد بات چیت کے عمل کو ختم کرنا نہیں بلکہ مسئلے کے جلد حل کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ مزید یقین دہانیوں کی بنیاد پر وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)










