سرینگر/۷ستمبر
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے پیر کو جموں و کشمیر حکومت پر زور دیا کہ وہ احتجاج کرنے والے طبی انٹرنز کے ساتھ بات چیت کرے اور انہیں مبینہ طور پر دھمکانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس انٹرنز اپنے حقوق کے لیے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان سے بات چیت کرنے کے بجائے کالج انتظامیہ اب ان کا کیریئر ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے اور ان کے والدین کو بلا کر ان پر احتجاج ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔‘‘
پی ڈی پی نے وزیر اعلیٰ سے مداخلت کرتے ہوئے مبینہ دھمکیوں کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا۔
پارٹی نے کہا، ’’یہ حکومت کی جانب سے نوجوان ڈاکٹروں کے ساتھ برتاؤ کا مناسب طریقہ نہیں ہے۔ ہم وزیر اعلیٰ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کریں، مبینہ دھمکیاں بند کرائیں، انٹرنز کے ساتھ براہِ راست بات چیت کریں اور ان کے مطالبات کا ازالہ کریں۔ پرامن احتجاج ایک جمہوری حق ہے۔ خاندانوں کو دھمکانا ناقابل قبول ہے۔‘‘
دریں اثنا، جموں و کشمیر میں طبی انٹرنز نے ماہانہ وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیر کو۴۸گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع کردی۔ انٹرنز گزشتہ سات روز سے وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر احتجاج کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










