ریپورہ، گاندربل؍۵ستمبر
وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں عظیم ہمالیائی سلسلۂ کوہ کے دامن میں واقع ایک چھوٹا اور خوب صورت گاؤں اپنے لذیذ انگوروں کے لیے جموں و کشمیر بھر میں معروف ہے اور یہاں تقریباً ہر گھرانے میں انگور کی کاشت کی جاتی ہے، جو اب ایک نئی نقد آور فصل بنتی جا رہی ہے۔
اس گاؤں کے انگوروں اور ان کی مٹھاس کا ذکرتقریباً۶۰۰ سال قبل کشمیر کے معروف صوفی بزرگ شیخ نورالدین ولی نے اپنی شاعری میں بھی کیا تھا۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ تب سے یہ مقام عمدہ ترین انگوروں کے لیے مشہور ہے۔
اس وقت یہاں حسینی، صاحبی، کشمش، انابشاہی اور روبی سمیت انگور کی مختلف اقسام کاشت کی جاتی ہیں اور جیسے ہی فصل تیار ہوتی ہے، اسے خریدنے کے لیے گاہکوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ انگور کی مختلف اقسام کے گچھے گاؤں کے تقریباً ہر گھر میں لٹکے نظر آتے ہیں جبکہ باغات انگوروں سے بھرے ہوئے ہیں، جو ہر راہ گیر کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہیں۔
ریپورہ کے سابق سرپنچ حبیب اللہ ماگرے، جو اپنے دو منزلہ مکان کے قریب انگوروں کا ایک چھوٹا باغ رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہاں ہر گھر میں انگور کی کاشت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا’’کچھ لوگوں کے پاس چند ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے انگور کے بڑے باغات ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنے کچن گارڈن میں بھی انگور کاشت کرتے ہیں۔ صرف ہمارے گاؤں سے انگور کی پیداوار ٹنوں میں ہوتی ہے۔ ہمارے گاؤں کی آب و ہوا انگور کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ انگوروں سے یہاں لوگوں کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ زیادہ سے زیادہ دیہاتی اس پھل کی کاشت کی طرف راغب ہو رہے ہیں تاکہ اس سے آمدنی حاصل کر سکیں۔
یہ گاؤں ایک آبپاشی نہر کے ذریعے پانی حاصل کرتا ہے، جو انگوروں کی پیداوار اور کاشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماگرے نے کہا’’آبپاشی کی نہر بننے کے بعد انگوروں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ خشک موسم کے دوران درختوں کو وقتاً فوقتاً آبپاشی کی سہولت مل جاتی ہے‘‘۔تاہم ماگرے نے کہا کہ حکومت کو انگوروں کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئی تکنیک اور جدید زرعی طریقے متعارف کرانے چاہئیں۔انہوں نے کہا’’انگور ہماری شناخت ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ دیہاتیوں کو مزید مراعات فراہم کرے‘‘۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں تقریباً۵۰۰سے۶۰۰ ہیکٹر اراضی پر انگور کاشت کیے جاتے ہیں اور ہر سال پیداوار۱۱۰۰ سے۱۵۰۰ میٹرک ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔ صرف ریپورہ میں انگور کی پیداوار۷۵۰ سے۹۰۰ میٹرک ٹن تک ہے جبکہ اس پھل کی کاشت۸۵۰ سے۹۰۰ ہیکٹر اراضی پر کی جاتی ہے۔ گاؤں میں پیدا ہونے والے انگور ان کے معیار کے لحاظ سے۲۰۰ سے۳۵۰ روپے فی کلوگرام تک فروخت ہوتے ہیں۔
عبدالرحیم بھٹ، جو انگوروں کے بہترین باغات میں سے ایک کے مالک ہیں، پیداوار سے مطمئن ہیں۔
انہوں نے کہا’’ہم اپنے باغات میں کم سے کم کیڑے مار ادویات استعمال کرتے ہیں، بعض اوقات ہم بالکل بھی کچھ استعمال نہیں کرتے اور ہماری پیداوار روز بروز بڑھ رہی ہے۔ یہاں کے کاشت کاروں نے آہستہ آہستہ پرانے طریقوں کو چھوڑ کر جدید طریقے اپنائے ہیں۔ ٹریلس سسٹم اور اولہ سے بچاؤ کے لیے ہیل نیٹس کے استعمال نے پیداوار میں مدد دی ہے اور فصل کو بھی محفوظ بنایا ہے۔ ہمارا اگلا ہدف نامیاتی انگور پیدا کرنا ہے‘‘۔
بھٹ یہ باتیں اس وقت کہہ رہے تھے جب وہ انگور کی فصل اتارنے میں مصروف تھے۔
انہوں نے کہا’’پہلے ہم اپنے انگور سری نگر کی فروٹ منڈی بھیجا کرتے تھے، اب گاہک ہمارے باغات کے باہر قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ جب بھی انگور تیار ہوتے ہیں، گاہک فصل خریدنے کیلئےانتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ صرف میرے باغات سے۲۰ سے۳۰ٹن سے زیادہ انگور حاصل ہوتے ہیں‘‘۔
عام طور پر انگوروں کی فصل ستمبر کے اوائل میں تیار ہو تی ہے تاہم اس سال درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث کاشت کاروں نے فصل پہلے ہی اتار لی ہے اور اپنی زیادہ تر پیداوار فروخت کر دی ہے۔
جہاں گاؤں کے انگوروں کے باغات ترقی کر رہے ہیں، وہیں قریبی کرال باغ میں جموں و کشمیر کے محکمۂ باغبانی کے زیر انتظام۳ء۵ ہیکٹر پر پھیلا ہوا ایک بڑا باغ خستہ حالی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ پختہ انگور کے درخت بیماری سے متاثر ہو چکے ہیں اور گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال فصل۷۵ فیصد سے بھی کم رہی ہے۔
مدثر، جو ایک مزدور کے ساتھ انگور پیک کر رہے تھے، نے کہا’’ہر جگہ فصل اچھی ہے لیکن ہمارے باغ میں ایسا نہیں ہے۔ ہم نے حکومت سے یہ باغ اس امید پر خریدا تھا کہ اس سے پیسہ کمائیں گے، لیکن بدقسمتی سے ہماری محنت کی کمائی ضائع ہو گئی۔ پورے ضلع میں یہ واحد باغ ہے جہاں انگور کی پیداوار بہت کم ہے‘‘۔
ڈاکٹر فاروق احمد آہنگر، پلانٹ پروٹیکشن کے ماہر اور کرشی وگیان کیندر گاندربل سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے انگور کی پیداوار بڑھانے میں دیہاتیوں کی مدد کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے خطے میں انگوروں کے معیار اور مقدار کو بہتر بنانے کے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔
آہنگر نے کہا’’حالیہ عرصے میں گاؤں میں انگور کی کاشت کا رقبہ بڑھا ہے۔ گاؤں کی آب و ہوا اور مٹی انگور کی کاشت کے لیے موزوں ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ہم نے مناسب تحقیق کے بعد اسپرے کا شیڈول تیار کیا ہے، جس سے پیداوار میں بھی مدد ملی ہے‘‘۔
گاندربل کے سابق رکنِ اسمبلی شیخ اشفاق جبار نے بھی تسلیم کیا کہ ان کا علاقہ انگوروں کے لیے مشہور ہے۔انہوں نے کہا’’حکومت کو چاہیے کہ وہ کاشت کاروں کو ریفریجریٹڈ وینز اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جدید تکنیک متعارف کروا کر اس پھل کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔ ہماری پیداوار کئی گنا بڑھ سکتی ہے اور مستقبل میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔‘‘
۔۔۔۔
(ندائے مشرق رپورٹ )










